کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ شوہر کی توجہ گھر سے ہٹ جاتی ہے یا وہ بیوی کی باتوں کو نظر انداز کرنے لگتا ہے۔ ایسے میں بیوی کا دل بہت دکھتا ہے، لیکن جذباتی ردعمل دکھانے کے بجائے حکمت سے کام لینا چاہیے۔ ہم آپ کو کچھ ایسے وظائف اور دعاؤں کے بارے میں بتائیں گے جو آپ کے شوہر کے دل کو آہستہ آہستہ پگھلا کر دوبارہ آپ کی طرف موڑ دیں گے۔ یہ وظائف نہایت سادہ ہیں، جنہیں آپ چھپے کر بھی پڑھ سکتی ہیں۔ ہم آپ کو یہ بھی سمجھائیں گے کہ ان وظائف کو پڑھتے وقت آپ کے دل میں کیا نیت ہونی چاہیے اور کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ان روحانی عملوں کے ساتھ ساتھ آپ کے نرم رویے اور اچھے اخلاق کا بھی بہت اثر ہوگا۔
Wazifa
آپ اور آپ کے شوہر کے درمیان امن و سکون قائم رکھنے اور طلاق کے کسی بھی خدشے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے اللہ کے صفاتی نام “یا اللہ یا قدوس یا سلام” کا وظیفہ بہت مفید ہے۔ اسے جمعہ کی شب عشاء کی نماز کے بعد شروع کریں: اول و آخر 10-10 مرتبہ درود شریف پڑھیں اور درمیان میں 1200 مرتبہ “یا اللہ یا قدوس یا سلام” کا ذکر کریں۔ اس عمل کو پورے 14 دن تک مسلسل جاری رکھیں، ہر روز بلا ناغہ۔ انشاءاللہ، اس کے بعد آپ کے گھر میں اللہ کی طرف سے خاص سلامتی اور پاکیزگی نازل ہوگی، جس سے تناؤ اور اختلافات ختم ہوں گے۔ وظیفہ مکمل ہونے کے بعد روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 100 مرتبہ “یا اللہ یا قدوس یا سلام” پڑھنے کا معمول بنائیں، تاکہ آپ کا گھرانہ ہمیشہ پر سکون رہے۔ یہ اسماء آپ کے رشتے میں تقدس اور ہم آہنگی پیدا کریں گے۔
Talaq Ki Wajohat
یہ بات پیشِ نظر رہے کہ جب کسی میاں بیوی کے تعلق میں تلخی یا طلاق کا خطرہ لاحق ہو تو ایسا کسی نہ کسی حقیقی یا معنوی وجہ کے بغیر نہیں ہوتا۔ ہمارا اندازہ ہے کہ اگر آپ اور آپ کے شوہر کے مابین بگاڑ کی صورت بن رہی ہے تو اس کے پس منظر میں مندرجہ ذیل 20 محرکات میں سے کچھ عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔
بیوی کا مسلسل سطحی سوچ اور بے عملی کا مظاہرہ کرنا۔
شوہر کی ذہنی اور روحانی سوچ کو مسلسل نہ سمجھنا یا مذاق اڑانا۔
شوہر کی تنہائی اور غور و فکر کے اوقات کا احترام نہ کرنا۔
مسلسل جھوٹ، فریب یا رازداری کی خلاف ورزی کرنا۔
بیوی کا ہر معاملے میں غیر منطقی اور جذباتی ردعمل دینا۔
شوہر کے مطالعہ، تحقیق اور دانشورانہ سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا۔
گھر کو ذہنی سکون کی بجائے شور اور کشمکش کا مرکز بنا دینا۔
شوہر کے عقائد اور روحانی رجحانات کا مذاق اڑانا۔
مسلسل فضول باتوں میں شوہر کا وقت ضائع کروانا۔
شوہر کے اندرونی خیالات اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنا۔
دوسروں کے سامنے شوہر کی ذہانت یا عادات پر تنقید کرنا۔
گھریلو معاملات میں مکمل طور پر غیر منطقی اور بے ترتیب رویہ۔
شوہر کی نجی زندگی، ڈائری یا ذاتی خیالات میں بلا اجازت مداخلت۔
حسد کی بنیاد پر شوہر کی علمی کامیابیوں کو کم تر دکھانا۔
نظربند یا منفی نظروں کی وجہ سے گھر میں بے چینی اور ڈر کا ماحول پیدا کرنا۔
کالے جادو کے ذریعے شوہر کی ذہنی صلاحیتوں اور عقل پر منفی اثرات ڈالنا۔
روحانی یا نفسیاتی مسائل کے حل کی بجائے انہیں نظر انداز کرنا۔
شوہر کے ساتھ گہرے ذہنی اور فلسفیانہ مباحثوں میں حصہ نہ لینا۔
معاملات کو چھپانے یا جذباتی بلیک میلنگ کرنے کا رویہ۔
شوہر کے اندرونی سکون اور روحانی تسکین کو تباہ کرنے والا رویہ۔
Rohani Mashwara
۔ پیاری بہن، شوہر کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اُس کے جذبات کی قدر کریں، اُس کی روحانی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جب آپ اُس کی ضروریات کو اہمیت دیں گی تو وہ بھی آپ کی خواہشوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ چنانچہ ہم نے کچھ تجاویز پیش کی ہیں، اِنہیں سمجھیں اور اپنائیں، انشاءاللہ آپ کا مستقبل روشن ہوگا۔
ان کی گہری سوچ اور تنہائی کی ضرورت کو سمجھیں۔
ان کے ذہنی اور روحانی سفر کا احترام کریں۔
فضول گفتگو یا سطحی باتوں سے گریز کریں۔
ان کی دانشمندی اور بصیرت کو سراہیں۔
ذاتی خلوت اور غور وفکر کے لیے انہیں جگہ دیں۔
معنی خیز اور فلسفیانہ گفتگو میں حصہ لیں۔
ان کے تجزیاتی ذہن کو چیلنج کریں۔
بے جا تقاضوں یا جذباتی دباؤ سے پرہیز کریں۔
رازداری اور پراسراریت کو برقرار رکھیں۔
علم اور مطالعے میں ان کی دلچسپی کو سمجھیں۔
ان کے اعصاب کو پریشان کرنے والے شور سے بچیں۔
ان کی غیر معمولی سوچ کو قبول کریں۔
جذباتی اظہار میں نرمی اور گہرائی رکھیں۔
مادی چیزوں سے زیادہ ذہنی رابطے پر توجہ دیں۔
ان کے شکوک اور سوالات کو نظر انداز نہ کریں۔
صبر سے کام لیں کیونکہ وہ دیر سے کھلتے ہیں۔
ان کی روحانی یا علمی تلاش میں ساتھ دیں۔
پر سکون اور ہم آہنگ ماحول فراہم کریں۔
ان کے اندرونی تنازعات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
محبت کو سادگی اور گہرائی سے ظاہر کریں۔
وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔
