محترمہ بہن، بہت سے شوہر عارضی مالی تنگی دور کرنے کے لیے قرض لے لیتے ہیں، لیکن جب ادائیگی میں تاخیر ہو جائے تو میاں بیوی کے درمیان الزام تراشی اور جھگڑوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اگر یہ قرض سود پر ہو تو پریشانی اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ سود کو اسلام میں نحوست اور بدحالی کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ سودی قرض کے اثرات بعض اوقات اولاد کی زندگی پر بھی پڑتے ہیں۔ اگر آپ کا شوہر قرض کی مشکل میں مبتلا ہے تو اسے حوصلہ دیں، محنت کی طرف مائل کریں اور ساتھ وہ قرآنی وظیفہ کریں جو ہم تجویز کر رہے ہیں، یہ وظیفہ اللہ کے حکم سے قرض سے خلاصی میں مددگار ثابت ہوگا۔
Wazifa
اگر آپ کا شوہر قرض اور مالی دباؤ کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہے تو ایسی صورت میں اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم کا وظیفہ اللہ کے حکم سے آسانی اور برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 255 میں ہے جبکہ سورہ البقرہ قرآن کے پارہ 3 میں ہے۔
اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم کے وظیفہ کے لئے جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد اول و آخر 10 ،10 مرتبہ درود شریف پڑھیں اور درمیان میں 700 مرتبہ اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم ورد کریں۔
یہ وظیفہ آپ نے صرف عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے اور اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے انشاء اللہ 14 دن کے بعد ایسی غیبی اسباب ظاہر ہونا شروع ہو ں گے جس کی وجہ سے آپ کے شوہر کو قرض سے نجات ملنا شروع ہو جائے گی ۔
وظیفہ مکمل ہونے کے بعد روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم پڑھنے کی عادت بنائیں تاکہ آپ کو اس وظیفہ کی روحانی برکات ہمیشہ حاصل ہوتی رہیں ۔
یاد رہے کہ اگر کسی وجہ سے آپ کسی دن وظیفہ نہ کرپائیں تو اس کی وجہ سے وظیفہ نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر آپ نماز قضا کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے آپ کا وظیفہ ٹوٹ جائے گا اور آپ کو آپ کے وظیفہ کا ایک فیصد بھی فائدہ نہیں ہوگا ، اس لئے نماز کی ہر حال میں پابندی کریں۔
Qarz ki Zahri aur Rohani Wajohat
عزیزہ بہن، شوہر کے قرض سے نجات کے لیے ہمارا بتایا ہوا وظیفہ بے حد مفید ہے۔ تاہم یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ کون سی ظاہری یا روحانی وجوہات ہیں جو مالی پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔ ہمارے جائزے کے مطابق، کچھ ایسی اہم وجوہات ہیں جو آپ کے شوہر کو قرض کے جال میں ڈال سکتی ہیں۔ ان وجوہات کو سمجھنا آپ کی حفاظت اور رہنمائی کے لیے لازم ہے۔
یہ وجوہات نیچے درج ہیں ۔
آپ کا شوہر بہت حساس دل رکھتا ہیں اور دوسروں کی باتوں سے جلد متاثر ہو جاتا ہیں، اسی وجہ سے وہ ایسے مالی فیصلے کر لیتا ہیں جو بعد میں نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
وہ ٹکراؤ سے بچنے کی عادت رکھتے ہیں، اس لیے غلط حالات میں بھی “نہ” کہنے کے بجائے قرض قبول کر لیتے ہیں۔
اپنوں کو خوش رکھنے کی خواہش میں وہ اپنی ضرورت سے زیادہ ذمہ داریاں اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔
فیصلہ کرنے میں تذبذب کی وجہ سے وہ درست وقت پر قدم نہیں اُٹھا پاتے اور موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
وہ دوسروں پر بہت زیادہ اعتماد کر لیتے ہیں، جس کا فائدہ اُٹھا کر لوگ اُنہیں مالی نقصان میں ڈال دیتے ہیں۔
اپنی نرمی اور اچھے اخلاق کی وجہ سے وہ پیسے واپس مانگنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں، جس سے قرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔
وہ دل میں پریشانی رکھتے ہیں مگر زبان پر نہیں لاتے، اس دباؤ میں غلط مالی راستہ اختیار ہو جاتا ہے۔
گھر کے سکون اور رشتوں کو بچانے کے لیے وہ اپنی مالی مشکلات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ان پر نظرِ بد کا اثر ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے کمائی میں برکت نہیں رہتی۔
لوگوں کا حسد اُن کے رزق کے راستوں میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور محنت کا پھل پورا نہیں ملتا۔
بعض اوقات منفی اثرات یا کالا جادو مالی معاملات کو الجھا دیتا ہے اور نقصان پر نقصان ہونے لگتا ہے۔
نماز کی پابندی میں کمی ہونے سے دل کا اطمینان اور رزق کی آسانی ختم ہو جاتی ہے۔
اللہ سے تعلق کمزور ہونے کی وجہ سے فیصلوں میں رہنمائی نہیں مل پاتی۔
وہ تنہا بوجھ اُٹھانے کے عادی ہوتے ہیں، اس لیے مدد مانگنے کے بجائے قرض کا سہارا لے لیتے ہیں۔
اپنی ناکامی کو چھپانے اور حالات کو سنبھالنے کی جلدی آخرکار قرض میں بدل جاتی ہے۔
یہ سب عوامل مل کر قرض کی مشکلات پیدا کرتے ہیں، حالانکہ ان کی نیت پاک اور ارادہ پختہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ زندگی میں عزت اور کامیابی برقرار رہے، لیکن یہ وجوہات غیر ارادی طور پر انہیں مالی مشکلات میں ڈال دیتی ہیں۔
وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔
