اس پوسٹ میں ہم آپ کو رقیہ تشفیہ کی حقیقت اور اس کی روحانی برکات کے بارئے میں بتائیں گے لیکن یاد رہے کہ رقیہ تشفیہ کا زکر حدیث میں نہیں ہے لیکن اس رقیہ کے تمام اجزا حدیث میں موجود ہونے کی وجہ سے اس رقیہ کو بطور روحانی علاج ادا کیا جا سکتا ہے، تفصیل میں جانے سے پہلے ہم آپ کو رقیہ تشفیہ کا طریقہ بتائیں گے اس کے بعد ہم اس کی وضاحت بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔ ۔
Ruqyah Tashfiyah Ka Tarika
رقیہ تشفیہ بیماری اور پریشانی سے نجات کا ایک روحانی زریعہ ہے جس کے لئے آپ کسی بھی وقت ایک مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں اور اس کے بعد آپ 7 مرتبہ اللہ الصمد محبت سے پکاریں اور آخر میں آپ ایک مرتبہ نیچے دی گئی دعا پڑھ کر اس رقیہ کو بند کردیں ۔
Tarjuma
ائے اللہ جس نے آج اللہ الصمد پڑھا اس پر رحم فرما
بیان کیا گیا رقیہ کا عمل آپ نے 3 یا 7 دن ک جاری رکھنا ہے ۔ بچوں کے لئے یہ رقیہ ان کے والدین کر سکتے ہیں جبکہ بالغ افراد اپنے لئے اس رقیہ کا عمل خود کریں ۔
رقیہ کے لئے باوضو ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ آپ کا اس بات پر بھی یقین ہونا ضروری ہے کہ شفاء صرف اللہ کی طرف سے ہے ۔
Ruqyah Tashfiyah ki Wazahat
رقیہ تشفیہ میں ایک مرتبہ سورہ فاتحہ ، 7 مرتبہ اللہ الصمد اور ایک مرتبہ رقیہ تشفیہ کی دعا پڑھی جاتی ہے جو کہ عربی میں ہم نے اوپر درج کردی ہے ۔
رقیہ تشفیہ براہ راست حدیث میں موجود نہیں لیکن اس کے اجزا کی حدیث کی روشنی میں وضاحت کے لئے ہم نے چند حدیث مبارکہ نیچے درج ہیں ۔
رقیہ تشفیہ میں سب سے پہلے ایک مرتبہ سورہ فاتحہ تلاوت کی جاتی ہے جبکہ حدیث کے مطابق سورہ فاتحہ سب سے عظمت والہ قرآنی دعا ہے ۔ سورہ فاتحہ کی برکت سے صحابہ اکرام سانپ اور بجھو کے زہر کا علاج کیا کرتے تھے اور یہ بات صحیح بخاری حدیث 5736 میں موجود ہے ۔
رقیہ تشفیہ میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد 7 مرتبہ اللہ الصمد پڑھا جاتا ہے جو کہ سورہ اخلاص کی دوسری آیت ہے اور یہ مقدس کلمات قرآن میں صرف ایک مرتبہ ہیں ۔
رقیہ تشفیہ میں 7 مرتبہ اللہ الصمد پڑھا جاتا ہے ۔ اللہ الصمد کہنا اور اس پر یقین رکھنا عبادت ہے جبکہ عبادت میں تعداد مقرر کرنا جائز ہے ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ
جس نے کہا: “اے اللہ! آج اس پر رحم فرما جس نے ‘اللہ الصمد’ کہا”، تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر ایک لاکھ مرتبہ رحم فرمائے گا جس نے یہ دعا کہی)۔
(شعب الایمان ، الطبرانی)
یعنی اگر کوئی مسلمان اللہ الصمد پکارتا ہے تو اللہ کی ذات اس پر ایک لاکھ مرتبہ رحمت فرماتے ہیں جبکہ رقیہ تشفیہ میں اللہ الصمد بھی پڑھا جاتا ہے اور اس کے وسلیہ سے دوسریئے مسلمانوں کے لئے دعا بھی کی جاتی ہے ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اللہ الصمد کہا اس کے لئے ہزار نیکایاں لکھی گئی اور اس کے لیے ہزار درجے بلند کیے گئے)۔
شعب الایمان للبیہقی: 486 الترغیب والترہیب للمنزری”2/400
ایک روائت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
کثرت سے کہو: لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، اور اللہ الصمد، کیونکہ یہ کلمات قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کو نجات دلانے والے ہوں گے)۔
(شعب الایمان)
رقیہ تشفیہ میں سب سے آخر میں نیچے درج دعا ایک بار پڑھی جاتی ہے
اس دعا کے الفاظ کے اوپر اگر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتے ہیں کہ مزکورہ بالا دعائیہ کلمات کے زریعے آپ ہر اس مسلمان کے لئے دعا کرتے ہیں جو جنہوں نے اللہ الصمد پڑھا جبکہ آپ بھی رقیہ تشفیہ میں اللہ الصمد پڑھ چکے ہوتے ہیں یعنی بیان کی گئی دعا مبارکہ کے الفاظ کے زریعے نہ صرف آپ نے دنیا میں بے شمار مسلمانوں کے لئے دعا کی بلکہ آپ نے اپنے لئے بھی دعا کی ۔
یاد رہے کہ مسلمان دوسرئے مسلمان کو جانتا ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں وہ دوسرئے مسلمان کا بھائی ہے اور رقیہ تشفیہ میں آپ اپنے دوسرئے مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے دعا کرتے ہیں جبکہ مسلمان بھائی یا بہن کے پیٹھ پیچھے دعا کرنے کے حوالے سے حدیث موجود ہے جو کہ ہم نے نیچے درج کی ہیں ۔
صحیح مسلم کے مطابق آپ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ
جس شخص نے اپنے بھائی کی پیٹھ پیچھے اس کے لیے دعا کی، تو فرشتہ کہتا ہے: آمین! اور تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو۔
اسی طرح مسند احمد کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بندے کی اپنے بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعا قبول کی جاتی ہے
رقیہ تشفیہ میں آخر میں پڑھی جانے والی دعا پر کے الفاظ پر غور کرنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ نے لاکھوں مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لئے پیٹھ پیچھے دعا کی اور ایسی دعا قبولیت کا مرتبہ حاصل کرتی ہے اور اس میں آپ بھی شامل ہیں یعنی آپ ہر اس مسلمان بھائی یا بہن کے لئے اللہ سے رحم کی دراخواست کر رہے ہیں جو اللہ کو اس کے نام اللہ الصمد کہہ کر پکارتے ہیں اور آپ نے بھی رقیہ تشفیہ میں اللہ الصمد پکارا ۔
اب آپ خود سوچیں کہ دنیا میں موجود کتنے مسلمان روزانہ سورہ اخلاص پڑھتے ہیں جبکہ جو مسلمان سورہ اخلاص پڑھتا ہے وہ اللہ الصمد کو بھی پڑھتا ہے کیونکہ اللہ الصمد سورہ اخلاص کی ہی آیت مبارکہ ہے ۔
ایک اور حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے تیرے لیے جو سوال کیا ہے، اس کا اجر تمہیں ملے گا اور تمہاری دعا میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔” (صحیح ابن حبان)
ہم نے سب سے آخر میں جو حدیث بیان کی اس کے مطابق جب کوئی مسلمان کسی دوسرئے مسلمان کے لئے دعا کرتا ہے تو اللہ کی ذات اس دعا کو جلد اور ضرور قبول فرماتے ہیں اور اس دعا کی وجہ سے دعا کرنے والے کو بھی اجر دیا جاتا ہے ۔
اب رقیہ تشفیہ میں سب سے آخر میں دی گئی دعا کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ آپ نے دنیا میں موجود لاکھوں مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لئے دعا کی اور اسی وجہ سے آپ کو بھی اس دعا کا اجر دیا جائے گا ،
یاد رہے کہ رقیہ تشفیہ براہ راست حدیث میں موجود نہیں بلکہ اس کے اجزا حدیث میں موجود ہیں اس لئے روحانی علاج کی نیت سے اس رقیہ کا عمل کیا جا سکتا ہے ۔ رقیہ تشفیہ کے بارئے میں جو معلومات ہمارئے پاس موجود تھی ہم نے آپ کے ساتھ شئیر کردی ہیں ۔ انشاء اللہ رقیہ تشفیہ کے زریعے آپ کو روحانی برکات ضرور حاصل ہوں گی جس کی وجہ سے آپ کو بیماری سے بھی شفاء ملے گی اور آپ کو موجودہ پریشانیوں سے بھی نجات ملے گی ۔
