اکثر مسلم خواتین اپنی شادی شدہ زندگی میں یہ محسوس کرتی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ دل کا سکون کم اور ذہنی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر جب گھر کا ماحول پرسکون نہ رہے یا روزمرہ کے معاملات میں بے جا مداخلت ہونے لگے۔ ایسے حالات میں عورت کے دل میں یہ خواہش پیدا ہونا بالکل فطری بات ہے کہ اسے ایک ایسا الگ گھر مل جائے جہاں وہ اپنے شوہر کے ساتھ اطمینان اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ یہ خواہش نہ ضد ہوتی ہے اور نہ ہی خود غرضی، بلکہ یہ ایک فطری احساس ہے جو ہر اس خاتون کے دل میں جنم لیتا ہے جو اپنے رشتے کو بچانا اور بہتر بنانا چاہتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس خواہش کی تکمیل ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، کیونکہ معاشی مسائل، خاندانی دباؤ اور سماجی رکاوٹیں اکثر راستے میں حائل ہو جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں ایک مسلمان عورت کے پاس سب سے مضبوط سہارا دعا کی صورت میں موجود ہوتا ہے، کیونکہ دعا دل کی کیفیت کو بھی بدلتی ہے اور حالات کی سمت کو بھی۔ جب بندہ سچے دل سے اللہ کے حضور اپنی حاجت رکھتا ہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ وظیفہ دراصل اسی مسلسل دعا کا ایک باقاعدہ طریقہ ہے جو دل کو مضبوط اور نیت کو خالص بناتا ہے۔ اسی لیے ہم آپ کو ایک ایسا خاص وظیفہ بتانے جا رہے ہیں جو مسلم خواتین کے لیے نہایت مفید ہے اور جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ بہت جلد آپ کے لیے الگ گھر کا سبب پیدا فرما سکتا ہے۔

Wazifa

Rabbi Inni Lima Anzalta in Arabic

پیاری بہن اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کا شوہر جلد از جلد الگ گھر حاصل کرے تو اس مقصد کے لئے ربی انی لما انزلت الی من خیر فقیر کا وظیفہ آپ کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ یہ آیتِ مبارکہ قرآنِ کریم کی سورۃ القصص کی آیت نمبر 24 ہے، جبکہ سورۃ القصص پارہ 20 میں ہے۔ اس وظیفہ کے لئے آپ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد اول و آخر 10-10 مرتبہ درود شریف پڑھیں اور درمیان میں 313 مرتبہ ربی انی لما انزلت الی من خیر فقیر محبت اور توجہ کے ساتھ تلاوت کریں۔ یہ وظیفہ صرف عشاء کی نماز کے بعد کریں اور اسے 14 دن تک مسلسل جاری رکھیں، ان شاء اللہ 14 دن کے بعد آپ کے شوہر کو الگ گھر حاصل ہونے کے لئے اسباب پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے دل میں کسی کے لئے نفرت یا کڑواہٹ نہ رکھیں، شکایت کم اور دعا زیادہ کریں، نماز کی پابندی خصوصاً فجر کی نماز کا اہتمام کریں اور اگر ممکن ہو تو ہفتے میں ایک بار تھوڑا سا صدقہ ضرور دیں۔ وظیفہ مکمل ہونے کے بعد روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ یہی دعا پڑھنے کی عادت بنائیں تاکہ اس وظیفہ کی روحانی برکات ہمیشہ قائم رہیں۔

Alag ghar Na lene ki Wajohat

اکثر ایسے شوہر جو خاندانی نظام سے گہرا جذباتی تعلق رکھتے ہیں، الگ گھر لینے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ وہ خود کو خاندان کا محافظ سمجھتے ہیں اور والدین یا بہن بھائیوں سے جدا ہونا ان کے نزدیک بے وفائی کے مترادف ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ بعض اوقات گھر کے ماحول میں موجود نظربد، حسد یا پوشیدہ منفی اثرات بھی ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں خوف، الجھن یا غیر ضروری خدشات پیدا ہو جاتے ہیں کہ اگر الگ ہوئے تو نقصان ہو جائے گا، بعض صورتوں میں کالاجادو یا شدید حسد کا اثر یہ ہوتا ہے کہ شوہر کی سوچ جمود کا شکار ہو جاتی ہے، وہ ہر تبدیلی کو خطرہ سمجھنے لگتا ہے اور اپنی بیوی کی بات کو بھی دباؤ یا ضد تصور کرتا ہے، نتیجتاً وہ ضدی رویہ اختیار کر لیتا ہے اور الگ گھر کے تصور سے مزید دور ہو جاتا ہے۔
ایسی صورت میں آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ شوہر کی فطرت کو سمجھتے ہوئے براہِ راست مطالبہ یا شکایت کے بجائے نرمی، حکمت اور جذباتی سمجھداری سے کام لے، شوہر کو یہ احساس دلایا جائے کہ الگ گھر لینے کا مقصد خاندان سے دوری نہیں بلکہ سکون، پرائیویسی اور بہتر ازدواجی زندگی ہے، گفتگو ایسے وقت میں کی جائے جب شوہر ذہنی طور پر پرسکون ہو اور مثالوں کے ذریعے بتایا جائے کہ محدود فاصلے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی والدین کی خدمت اور عزت پوری طرح کی جا سکتی ہے، ساتھ ہی گھر میں صدقہ، دعا اور مثبت ماحول کو فروغ دے کر نظربد اور حسد کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، بیوی اگر مستقل مزاجی سے اعتماد، احترام اور ساتھ کا احساس دے تو آہستہ آہستہ شوہر کا خوف کم ہوتا ہے، اس کی سوچ میں لچک آتی ہے اور وہ خود اس نتیجے پر پہنچنے لگتا ہے کہ الگ گھر دراصل اس کے اور اس کے رشتے دونوں کے لیے بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے۔

note

وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔