ازدواجی زندگی میں مشکلات آنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب یہ مشکلات حد سے بڑھ جائیں اور عورت کو ذہنی و قلبی سکون میسر نہ رہے تو اس کا دل ایک الگ اور پُرامن ماحول کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ ایسی خواہش کا پیدا ہونا نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی ناشکری، بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ عورت اپنی زندگی میں سکون اور توازن چاہتی ہے۔ اکثر خواتین یہ بات دل میں رکھتی ہیں اور کسی سے بیان نہیں کر پاتیں، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں انہیں غلط نہ سمجھ لیا جائے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے بھی سکونِ قلب کو بہت اہمیت دی ہے۔ مگر چونکہ دنیاوی وسائل محدود ہوتے ہیں اس لیے ہر خواہش فوراً پوری نہیں ہو پاتی۔ ایسے میں دعا ہی وہ ذریعہ بنتی ہے جو بند دروازوں کو کھول دیتی ہے۔ دعا اللہ سے بات کرنے کا سب سے خوبصورت طریقہ ہے، جہاں عورت اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتی ہے۔ جب یہی دعا بار بار کی جائے اور اللہ پر مکمل یقین رکھا جائے تو وہ وظیفہ بن جاتی ہے۔ وظیفہ دل کو مضبوط، سوچ کو مثبت اور حالات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی اعتماد کے ساتھ ہم آپ کو ایک ایسا مجرب روحانی عمل بتا رہے ہیں جو خاص طور پر ان مسلم خواتین کے لیے ہے جو الگ گھر کی خواہش رکھتی ہیں، اور ان شاء اللہ اس کی برکت سے آپ کو جلد کامیابی نصیب ہو گی۔

Wazifa

Rabbanaa-taqabbal-minnaa-in

پیاری بہن اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کی دعا قبول ہو اور الگ رہائش کا معاملہ آسان بنے تو ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم کا وظیفہ اختیار کریں۔ یہ آیتِ مبارکہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 127 ہے، جبکہ سورۃ البقرہ پارہ 1 میں ہے۔ جمعہ کے دن عشاء کے بعد اول و آخر 10-10 مرتبہ درود شریف اور درمیان میں 313 مرتبہ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم پڑھیں۔ 14 دن تک اس عمل پر قائم رہیں۔ دل میں نفرت نہ رکھیں، دعا کو معمول بنائیں، نماز اور صدقہ کا اہتمام کریں۔ بعد میں روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ یہی دعا پڑھتے رہیں۔

Alag ghar Na lene ki Wajohat

پیاری بہن ، ہمیں لگتا ہے کہ آپ کا شوہر باتونی ، ملنسار اور زندگی کو ہلکے انداز میں لینے کا عادی ہے وہ ماحول کی رونق، لوگوں کی موجودگی اور مشترکہ رہائش کی گہماگہمی سے ذہنی تسکین حاصل کرتا ہے ، انہیں لگتا ہے کہ الگ رہنے کی وجہ سے ان کی زندگی بوریت، تنہائی یا ذمہ داریوں کے دباؤ میں آ جائے گی اور اسی وجہ سے ایسے لوگ بعض اوقات الگ گھر لینے کے لئے سنجیدہ نہیں ہوتے ،
بعض اوقات گھر میں موجود حسد یا نظربد ایسے شوہر کی توجہ کو منتشر کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں وہ غیر سنجیدہ فیصلے کرتا ہے یا بات کو ٹالنے کی عادت اپنا لیتا ہے، جبکہ کالاجادو یا منفی اثرات کی صورت میں اس کی فطری خوش مزاجی وقتی طور پر بے چینی، غصے یا لاپرواہی میں بدل جاتی ہے اور وہ کسی بھی مستقل یا سنجیدہ تبدیلی سے کترانے لگتا ہے، یوں وہ الگ گھر کے مطالبے کو وقتی خواہش سمجھ کر نظر انداز کرتا رہتا ہے۔
ایسی حالت میں بیوی کے لیے بہتر حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ شوہر کی خوش طبع اور اظہار پسند فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے بات کرے، سخت لہجے یا شکایت کے بجائے مثبت انداز میں یہ بتایا جائے کہ الگ گھر لینے سے ان دونوں کی زندگی میں آزادی، سکون اور خوشگوار لمحات بڑھ سکتے ہیں، شوہر کو یہ احساس دلایا جائے کہ یہ فیصلہ اس کی شخصیت کو محدود نہیں کرے گا بلکہ اسے مزید اعتماد اور سکون دے گا، کبھی کبھار ہلکے پھلکے انداز میں مستقبل کے خواب، بہتر طرزِ زندگی اور اپنی دنیا بنانے کی بات کرنا اس کے دل میں دلچسپی پیدا کر سکتا ہے، ساتھ ہی دعا، صدقہ اور مثبت سوچ کے ذریعے حسد، نظربد اور منفی اثرات کو کم کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے، جب بیوی مستقل مزاجی سے نرمی، تعریف اور ساتھ کا احساس دیتی ہے تو شوہر آہستہ آہستہ اس خیال کو سنجیدگی سے لینے لگتا ہے اور الگ گھر کے لیے آمادہ ہونے لگتا ہے۔
الگ گھر کے حصول میں جلدی کے لیے ضروری ہے کہ ظاہری تدابیر کے ساتھ روحانی پہلو کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے، اگر آپ پہلے بتایا گیا عمل باقاعدگی سے جاری رکھیں اور اس کے ساتھ عملی کوششیں بھی کرتی رہیں تو اللہ کے حکم سے اس عمل کی برکت شاملِ حال ہوتی ہے، یوں الگ گھر کے لیے کی جانے والی ہر عملی کوشش میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور کامیابی کے راستے جلد ہموار ہونے لگتے ہیں۔

note

وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔