بسا اوقات عورت اپنی ازدواجی زندگی میں یہ محسوس کرتی ہے کہ اگرچہ سب کچھ موجود ہے، مگر دل کو وہ سکون میسر نہیں جو ہونا چاہیے۔ روزمرہ کی تلخیاں، بے جا مداخلت یا ذمہ داریوں کا بوجھ آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ میں بدل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں الگ گھر کی خواہش ایک فطری ردعمل کے طور پر سامنے آتی ہے، کیونکہ عورت چاہتی ہے کہ اس کی زندگی میں سکون، عزت اور نجی فضا موجود ہو۔ تاہم یہ راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا، کیونکہ عملی مسائل اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی چیز عورت کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے تو وہ اللہ پر بھروسہ اور دعا کا سہارا ہے۔ دعا دل کو امید دیتی ہے اور آنکھوں کو مستقبل کی روشنی دکھاتی ہے۔ جب دعا کو باقاعدگی سے پڑھا جائے تو وہ وظیفہ کہلاتی ہے، جو نہ صرف روحانی طاقت دیتا ہے بلکہ حالات میں بھی تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین نے صبر اور دعا کے ذریعے اپنی مشکلات کا حل پایا ہے۔ ہم آپ کے لیے بھی ایک ایسا ہی مؤثر وظیفہ پیش کر رہے ہیں جو آپ کی نیت کو مضبوط کرے گا اور اللہ کے حکم سے آپ کے لیے الگ گھر کے اسباب پیدا کرے گا۔
Wazifa
پیاری بہن اگر آپ کو لگتا ہے کہ فیصلوں میں رکاوٹ ہے تو وافوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد کا وظیفہ بہت فائدہ مند ہے۔ یہ آیتِ مبارکہ سورۃ غافر کی آیت نمبر 44 ہے، جبکہ سورۃ غافر پارہ 24 میں ہے۔ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد 10 مرتبہ درود شریف، پھر 313 مرتبہ وافوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد اور آخر میں 10 مرتبہ درود شریف پڑھیں۔ اس عمل کو 14 دن تک جاری رکھیں۔ ساتھ دل صاف رکھیں، شکوہ کم کریں، نماز اور صدقہ کا خاص خیال رکھیں۔ بعد ازاں روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ یہی دعا پڑھتے رہیں۔
Alag ghar Na lene ki Wajohat
پیاری بہن بعض افراد زندگی کی بے شمار ناکامیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ وہ بدقسمت زندگی کا شکار ہیں وہ اکثر یہ بھی سوچتے ہیں کہ انہیں الگ گھر کبھی حاصل نہیں ہوگا جبکہ وہ الگ گھر حاصل کرنا بھی چاہتے ہیں
یعنی وہ غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ مشکلات سے ڈرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ الگ گھر لینے سے روزمرہ کے کاموں، مالی معاملات یا خاندانی تعلقات میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات گھر میں موجود حسد، نظربد یا کالاجادو ان کے ذہن میں خوف اور پریشانی پیدا کر دیتا ہے، جس کے سبب وہ موجودہ ترتیب کو برقرار رکھنا زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔
بیوی کے لیے بہتر ہے کہ وہ شوہر کی عملی فطرت کو سمجھتے ہوئے صبر اور نرمی سے بات کرے۔ الگ گھر کے فوائد آسان اور حقیقی مثالوں سے بیان کیے جائیں، تاکہ شوہر کو یقین ہو کہ یہ فیصلہ محفوظ اور فائدہ مند ہے۔ مالی منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کے ذریعے اسے سکون کا احساس دلایا جائے۔ ساتھ ہی دعا، صدقہ اور مثبت ماحول کے ذریعے حسد، نظربد اور کالاجادو کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ جب بیوی مستقل مزاجی، تعاون اور سمجھداری دکھاتی ہے تو شوہر آہستہ آہستہ الگ گھر کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔
الگ گھر جلد حاصل کرنے کے لئے ہم پہلے وظیفہ بھی بتا چکے ہیں، آپ کو چاہیئے کہ الگ گھر کے لئے ظاہری کوشش کے ساتھ آپ وظیفہ بھی جاری رکھیں انشاء اللہ وظیفہ کی برکت سے آپ کو آپ الگ گھر حاصل کرنے کی ہر ظاہری کوشش میں جلد کامیابی حاصل ہوگی۔
وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔
