محترمہ بہن، کچھ شوہر مالی دباؤ سے نکلنے کے لیے قرض لیتے ہیں، مگر جب قرض وقت پر واپس نہ ہو تو میاں بیوی کے تعلقات میں تلخی اور بے اعتمادی پیدا ہونے لگتی ہے۔ سود پر لیا گیا قرض اس صورتحال کو مزید خراب کر دیتا ہے کیونکہ سود بدحالی اور نحوست کا سبب بنتا ہے۔ ایسی نحوست کبھی کبھار اولاد تک بھی منتقل ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کا شوہر قرض کی الجھن میں ہے تو اسے محنت اور درست راہ اختیار کرنے کا کہیں اور ساتھ وہ قرآنی وظیفہ ادا کریں جو ہم بتا رہے ہیں، ان شاء اللہ اللہ آسانی عطا فرمائے گا۔
Wazifa
اگر قرض کی وجہ سے مایوسی اور دل گرفتگی بڑھتی جا رہی ہے تو ولا تیاسوا من روح اللہ کا وظیفہ امید اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ سورہ یوسف کی آیت نمبر 87 میں ہے جبکہ سورہ یوسف قرآن کے پارہ 13 میں ہے۔
وظیفہ کے لئے آپ جمعہ کے دن عشاء کے بعد اول و آخر 10، 10 مرتبہ درود شریف اور درمیان میں 1100 مرتبہ ولا تیاسوا من روح اللہ پڑھیں
یہ وظیفہ آپ نے صرف عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے اور اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے انشاء اللہ 14 دن کے بعد ایسی غیبی اسباب ظاہر ہونا شروع ہو ں گے جس کی وجہ سے آپ کے شوہر کو قرض سے نجات ملنا شروع ہو جائے گی ۔
وظیفہ مکمل ہونے کے بعد روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ ولا تیاسوا من روح اللہ پڑھنے کی عادت بنائیں تاکہ آپ کو اس وظیفہ کی روحانی برکات ہمیشہ حاصل ہوتی رہیں ۔
یاد رہے کہ اگر کسی وجہ سے آپ کسی دن وظیفہ نہ کرپائیں تو اس کی وجہ سے وظیفہ نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر آپ نماز قضا کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے آپ کا وظیفہ ٹوٹ جائے گا اور آپ کو آپ کے وظیفہ کا ایک فیصد بھی فائدہ نہیں ہوگا ، اس لئے نماز کی ہر حال میں پابندی کریں۔
Qarz ki Zahri aur Rohani Wajohat
محترمہ، ہم نے آپ کو شوہر کے قرض سے چھٹکارہ پانے کے لیے ایک خاص وظیفہ بتایا ہے، جو بہت مؤثر ہے۔ تاہم، یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ کن روحانی اور ظاہری وجوہات کی بنا پر شوہر مالی پریشانی اور قرض میں مبتلاء ہو سکتا ہے۔ ہم نے احتیاط سے چند ایسی وجوہات نوٹ کی ہیں، جنہیں جاننا آپ کی اور شوہر کی فلاح کے لیے ضروری ہے۔یہ وجوہات نیچے درج ہیں ۔
آپ کا شوہر آزادی پسند اور تبدیلی کو پسند کرنے والا انسان ہے ، اسی وجہ سے وہ بار بار مالی راستہ بدل لیتا ہیں جس سے استحکام پیدا نہیں ہو پاتا۔
وہ نئے تجربات اور تیز منافع کی خواہش رکھتے ہیں، اس جوش میں خطرے کا اندازہ کم لگا پاتے ہیں۔
ایک ہی کام پر قائم رہنا اُن کے لیے مشکل ہوتا ہے، اس بے چینی کی وجہ سے آمدن میں تسلسل نہیں رہتا۔
وہ موقع دیکھ کر فوری فیصلہ کر لیتے ہیں، مگر بعد میں اس کے نتائج کا بوجھ قرض کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
خرچ کرنے میں دل بڑا ہوتا ہے اور پیسے روک کر رکھنے کی عادت کم ہوتی ہے۔
سفر، دوستوں یا شوق پر ہونے والا خرچ آہستہ آہستہ مالی دباؤ بڑھا دیتا ہے۔
وہ خود کو پابندیوں میں قید کرنا پسند نہیں کرتے، اس لیے بجٹ اور حساب کتاب کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اپنی باتوں اور منصوبوں سے دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے وہ اپنی حیثیت سے زیادہ وعدے کر لیتے ہیں۔
نقصان ہونے پر وہ ٹھہرنے کے بجائے نیا راستہ اپناتے ہیں، جس سے پچھلا نقصان پورا نہیں ہو پاتا۔
ان پر نظرِ بد کا اثر ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے کمائی میں برکت نہیں رہتی اور پیسہ ہاتھ میں نہیں ٹکتا۔
لوگوں کا حسد اُن کے مواقع محدود کر دیتا ہے اور ترقی کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔
بعض اوقات منفی اثرات یا کالا جادو مالی معاملات کو الجھا دیتا ہے اور قرض کی نوبت آ جاتی ہے۔
نماز کی پابندی میں کمی ہونے سے دل کا سکون اور فیصلوں میں توازن ختم ہو جاتا ہے۔
اللہ سے تعلق کمزور ہونے کی وجہ سے زندگی میں بے برکتی اور بے ترتیبی آ جاتی ہے۔
وہ وقتی آزادی اور خوشی کے لیے مستقل مالی سکون کو قربان کر بیٹھتے ہیں، جو آخرکار قرض میں بدل جاتا ہے۔
یہ وجوہات مل کر آپ کے شوہر کو مالی مشکلات میں پھنسنے پر مجبور کر دیتی ہیں، باوجود اس کے کہ ان کی نیت پاکیزہ اور ارادہ پختہ ہوتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ زندگی میں کامیابی اور عزت قائم رہے، لیکن یہ حالات انہیں قرض میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔
