پیاری بہن، مالی تنگی کے باعث بعض شوہر قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، لیکن جب قرض کی ادائیگی مشکل ہو جائے تو یہی مسئلہ گھریلو جھگڑوں اور الزام تراشی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اگر قرض سود پر لیا گیا ہو تو زندگی میں بے برکتی اور پریشانیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے اثرات بچوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اگر آپ کا شوہر قرض میں پھنسا ہوا ہے تو اسے محنت اور جدوجہد کی ترغیب دیں اور ساتھ ہمارے بتائے گئے قرآنی وظیفے کو معمول بنائیں، یہ وظیفہ قرض سے نجات میں مددگار ہوگا۔
Wazifa
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے شوہر کو قرض اور مالی تنگی سے حقیقی نجات ملے تو وما النصر الا من عند اللہ کا وظیفہ اللہ کی مدد کو قریب کر دیتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 126 میں ہے جبکہ سورہ آل عمران قرآن کے پارہ 4 میں ہے۔
وظیفہ کے لئے آپ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد اول و آخر 10 ،10 مرتبہ درود شریف پڑھیں اور درمیان میں 1200 مرتبہ وما النصر الا من عند اللہ ورد کریں۔ 14 دن تک اس پر عمل کریں۔
یہ وظیفہ آپ نے صرف عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے اور اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے انشاء اللہ 14 دن کے بعد ایسی غیبی اسباب ظاہر ہونا شروع ہو ں گے جس کی وجہ سے آپ کے شوہر کو قرض سے نجات ملنا شروع ہو جائے گی ۔
وظیفہ مکمل ہونے کے بعد روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ وما النصر الا من عند اللہ پڑھنے کی عادت بنائیں تاکہ آپ کو اس وظیفہ کی روحانی برکات ہمیشہ حاصل ہوتی رہیں ۔
یاد رہے کہ اگر کسی وجہ سے آپ کسی دن وظیفہ نہ کرپائیں تو اس کی وجہ سے وظیفہ نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر آپ نماز قضا کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے آپ کا وظیفہ ٹوٹ جائے گا اور آپ کو آپ کے وظیفہ کا ایک فیصد بھی فائدہ نہیں ہوگا ، اس لئے نماز کی ہر حال میں پابندی کریں۔
Qarz ki Zahri aur Rohani Wajohat
عزیزہ بہن، شوہر کے قرض سے نجات کے لیے ہمارا بتایا ہوا وظیفہ بہت کارآمد ہے، لیکن یہ جاننا بھی اہم ہے کہ کون سی وجوہات یا عوامل شوہر کو قرض میں مبتلاء کر سکتے ہیں۔ ہمارے جائزے میں کچھ اہم روحانی اور ظاہری وجوہات سامنے آئی ہیں، جنہیں سمجھ کر آپ خود اور اپنے شوہر کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
یہ وجوہات نیچے درج ہیں ۔
آپ کا شوہر گھر اور رشتوں کو سب سے اوپر رکھتا ہے ، اسی ذمہ داری کے احساس میں وہ اپنی مالی حد سے آگے بڑھ جاتے ہے۔
وہ دوسروں کی ضرورت دیکھ کر خود کو روک نہیں پاتے اور اکثر اپنی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔
اہلِ خانہ کو آسودہ رکھنے کی خواہش میں وہ اپنی ذات کی ضروریات اور بچت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
وہ دل کے نرم ہوتے ہیں، اس لیے کسی کو انکار کرنا یا مدد سے پیچھے ہٹنا اُن کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
گھر کی خوبصورتی، سہولت اور عزت برقرار رکھنے کے لیے وہ اضافی خرچ کو بھی ضروری سمجھ لیتے ہیں۔
وہ تنازع اور سخت فیصلوں سے بچنا چاہتے ہیں، اسی لیے بروقت مالی کنٹرول نہیں کر پاتے۔
اپنوں کی خوشی کے لیے وہ قرض کو وقتی حل سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔
وہ ذمہ داریاں بانٹنے کے بجائے خود پر جمع کر لیتے ہیں، جس سے مالی دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے۔
نقصان ہونے پر وہ خاموشی سے برداشت کرتے ہیں اور مسئلہ کھل کر بیان نہیں کرتے۔
ان پر نظرِ بد کا اثر ہو سکتا ہے، جس سے گھر میں آنے والا رزق ٹھہر نہیں پاتا۔
لوگوں کا حسد اُن کی گھریلو خوشحالی کو متاثر کرتا ہے اور اخراجات میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔
بعض اوقات منفی اثرات یا کالا جادو گھریلو اور مالی معاملات میں رکاوٹیں پیدا کر دیتا ہے۔
نماز کی پابندی میں کمی ہونے سے دل کا اطمینان اور رزق کی برکت متاثر ہو جاتی ہے۔
اللہ سے تعلق کمزور ہونے کی وجہ سے فیصلوں میں توازن نہیں رہتا اور مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
وہ گھر کی خاطر اپنی پریشانی چھپا لیتے ہیں، اور یہی دباؤ آخرکار قرض کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یہ عوامل مجموعی طور پر شوہر کو قرض کی پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں، حالانکہ ان کی نیت ہمیشہ صاف اور ارادہ مضبوط ہوتا ہے۔ ان کا مقصد زندگی میں کامیابی اور عزت قائم رکھنا ہوتا ہے، لیکن یہ وجوہات غیر متوقع مالی مشکلات پیدا کر دیتی ہیں۔
وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔
