پیاری بہن، اگر میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھنا بھی کم کر دیں تو یہ رشتے کے لیے اچھی علامت نہیں۔ آنکھوں کا ملنا جب کم ہوتا ہے تو دلوں کا فاصلہ بڑھنے لگتا ہے، اور یہ فاصلہ دونوں کو اجنبی بنا سکتا ہے۔ لہٰذا، اپنے شوہر کی ناراضی کو عام نہ ہونے دیں۔ اگر ناراضی معمول بن گئی ہے تو فوری دعا کے ذریعے اس کے دل میں محبت کی چنگاری پھر سے جلائیں۔ چونکہ وظیفہ بھی دعا ہی ہے، اس لیے ہم آپ کو ایک آسان وظیفہ بتاتے ہیں جس سے آپ شوہر کی ناراضی ختم کر کے اس کی محبت حاصل کر سکتی ہیں۔
Wazifa
اگر آپ کا شوہر مسلسل آپ سے ناراض رہتا ہے اور کوشش کے باوجود اس کی ناراضگی کم نہیں ہو رہی تو حسبنا اللہ ونعم الوکیل کے وظیفہ کے زریعے اس کی ناراضگی کو ہمیشہ کے لئے دور کیا جا سکتا ہے ۔ یہ وظیفہ نہ صرف شوہر کی ناراضگی کو ختم کرئے گا بلکہ اس کی برکت سے میاں بیوی کے درمیان موجود ہر پریشانی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی اور انہیں اللہ کی حفاظت بھی حاصل ہوگی ۔ وظیفہ کے لئے آپ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد اول و آخر 10-10 مر تبہ درود شریف پڑھیں اور درمیان میں آپ حسبنا اللہ ونعم الوکیل کو 313 مرتبہ تلاوت کریں ۔ یہ وظیفہ آپ نے صرف عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے اور اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے ۔ وظیفہ مکمل کرنے کے بعد آپ روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور حسبنا اللہ ونعم الوکیل ورد کرنے کی عادت بنائیں تاکہ آپ کو اس وظیفہ کی روحانی برکات ہمیشہ حاصل ہوتی رہیں ۔
دوران وظیفہ اگر ذہن پوجھل محسوس ہو تو آپ کچھ دیر کے لئے وظیفہ کو درود شریف پڑھ کر روک سکتی ہیں ۔
یاد رہے کہ وظیفہ میں ںاغہ ہونے سے وظیفہ نہیں ٹوٹ سکتا لیکن اگر نماز قضا ہو جائے تو اس کی وجہ سے آپ کا وظیفہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ نماز وظیفہ سے ذیادہ ضروری ہے اس کے علاوہ وظیفہ کے دوران مستحق کو صدقہ بھی ضرور کریں ۔
Narazgi ki Wajohat
پیاری بہن ، آپ کے شوہر کی فطرت میں حساسیت اور خودداری کا عنصر نمایاں ہو سکتا ہے۔ ایسے مرد اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرتے بلکہ ناراضگی کے ذریعے خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اگر ان کے غصے کے جواب میں غصہ دکھائیں گی تو فاصلے بڑھ سکتے ہیں۔ آپ کے لیے بہتر ہے کہ آپ ان کے مزاج کو سمجھیں اور وقت کی پہچان کریں۔ جب وہ خاموش ہوں تو اسے بے رخی نہ سمجھیں بلکہ انہیں وقت دیں۔ جب وہ بات کرنے پر آمادہ ہوں تو نرم لہجہ اختیار کریں اور الزام سے بچیں۔ آپ کا احترام بھرا انداز ان کے دل پر گہرا اثر ڈالے گا۔
انہیں تنقید اورجھگڑے والا ماحول سخت ناگوار گزرتا ہے۔ اگر ان کی آزادی پر حد بندی لگائی جائے یا انہیں بہت زیادہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ باغی ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنی بیوی سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ذہین، خود مختار اور پراعتماد ہو، جو ہر معاملے میں ان کی مخالف نہ بنے بلکہ ایک دلچسپ ساتھی ثابت ہو۔
اگر گھریلو ماحول بہت زیادہ روایتی، پابند یا یکسانیت کا شکار ہوجائے تو وہ بیزار اور ناراض ہوسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، بیرونی منفی اثرات جیسے حسد، نظرِ بد یا کالے جادو کا اثر بھی ان کے مزاج پر فوری طور پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس سے وہ بے چین، چڑچڑے اور بلاوجہ ناراض ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں وہ بات چیت کم کر دیتے ہیں اور گھر سے ذہنی طور پر دور ہونے لگتے ہیں۔
آپ کو چاہیے کہ ان کی توانائی کو مثبت سرگرمیوں کی طرف موڑیں، زندگی میں دلچسپی اور نرمی برقرار رکھیں۔ ان کی آزادی کا احترام کریں مگر اپنی عزت نفس بھی قائم رکھیں۔ بوریت اور یکسانی سے بچیں اور اپنے تعلقات میں ہمیشہ کچھ نیا پن لانے کی کوشش کریں۔ منفی نفسیات یا الزام تراشی سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ چیز انہیں سب سے زیادہ ناراض کرتی ہے۔
وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔
