جب ازدواجی زندگی میں سکون کی جگہ بے چینی اور دباؤ لے لے تو عورت کے دل پر اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں، کیونکہ عورت کا دل گھر کے ماحول سے براہِ راست جڑا ہوتا ہے۔ اگر اسے ہر وقت تناؤ، باتوں کی تلخی یا فیصلوں میں بے اختیاری کا سامنا ہو تو اس کا دل فطری طور پر ایک محفوظ اور پرسکون جگہ کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب الگ رہائش کا خیال ذہن میں آتا ہے، جو کہ کسی بھی مسلمان خاتون کے لیے ایک جائز اور فطری تمنا ہے۔ مگر یہ تمنا پوری کرنے کے راستے میں کئی مشکلات کھڑی ہو جاتی ہیں، جیسے مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی ناراضگی کا خوف۔ ایسے نازک حالات میں اگر کوئی چیز عورت کے دل کو سہارا دیتی ہے تو وہ اللہ پر یقین اور اس سے مانگی جانے والی دعا ہے۔ دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی رشتہ ہے جو بندے کو اس کے رب سے جوڑ دیتا ہے۔ جب دعا تسلسل کے ساتھ کی جائے تو وہ وظیفہ کی شکل اختیار کر لیتی ہے، جو نہ صرف دل کو سکون دیتی ہے بلکہ حالات میں آسانی بھی پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صبر اور دعا کو ساتھ لے کر چلنے والی خواتین اکثر وہ راستے پا لیتی ہیں جو بظاہر بند نظر آتے ہیں۔ ہم آپ کو ایک ایسا روحانی عمل بتا رہے ہیں جو خاص طور پر مسلم خواتین کے لیے ہے اور جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ آپ کے دل کی اس خواہش کو جلد حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

Wazifa

Rabbi-anzilnee-munzalam-mub

پیاری بہن اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے شوہر کے لئے الگ گھر کے دروازے کھلیں تو ربی انزلنی منزلا مبارکا وانت خیر المنزلین کا وظیفہ نہایت مؤثر ہے۔ یہ آیتِ مبارکہ سورۃ المؤمنون کی آیت نمبر 29 ہے، جبکہ سورۃ المؤمنون پارہ 18 میں ہے۔ اس وظیفہ کے لئے جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد اول و آخر 10-10 مرتبہ درود شریف پڑھیں اور درمیان میں 313 مرتبہ ربی انزلنی منزلا مبارکا وانت خیر المنزلین پڑھیں۔ اس عمل کو 14 دن تک جاری رکھیں، ان شاء اللہ حالات میں آسانی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔ دل کو صاف رکھیں، شکایت کم کریں، نماز خصوصاً فجر کی پابندی کریں اور ہفتے میں ایک بار صدقہ ضرور دیں۔ بعد میں روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ یہی دعا پڑھنے کی عادت بنا لیں۔

Alag ghar Na lene ki Wajohat

اکثر ایسے شوہر جو جذباتی طور پر حساس، رشتوں میں توازن رکھنے والے اور دوسروں کے احساسات کو اپنی ذات پر حاوی کر لینے والے ہوتے ہیں، الگ گھر لینے سے اس لیے ہچکچاتے ہیں کہ وہ کسی کو ناراض کرنے یا دل دکھانے کے تصور سے ہی پریشان ہو جاتے ہیں، انہیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر وہ علیحدہ رہائش اختیار کریں گے تو خاندان میں اختلاف، بددلی یا الزام تراشی پیدا ہو سکتی ہے، بعض اوقات گھر کے ماحول میں موجود حسد یا نظربد ایسے شوہر کے دل میں غیر مرئی بوجھ ڈال دیتی ہے جس سے وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے، جبکہ کالاجادو یا منفی روحانی اثرات کی صورت میں وہ غیر ضروری وہم، خواب یا دل کی بے چینی محسوس کرتا ہے اور یہی کیفیت اسے ہر بڑے فیصلے سے پیچھے ہٹا دیتی ہے، اس طرح وہ موجودہ حالت کو برداشت کرنا آسان اور نئی شروعات کو خطرناک سمجھنے لگتا ہے۔
ایسی صورتحال میں بیوی کے لیے مؤثر راستہ یہ ہے کہ وہ شوہر پر دباؤ ڈالنے کے بجائے اس کے جذباتی پہلو کو سمجھتے ہوئے بات کرے، اسے یہ یقین دلایا جائے کہ الگ گھر لینا کسی کے خلاف قدم نہیں بلکہ باہمی سکون اور ازدواجی تعلق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے، شوہر کو یہ احساس دینا ضروری ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہوگا بلکہ بیوی ہر فیصلے میں اس کے ساتھ کھڑی ہے، آہستہ آہستہ گفتگو میں یہ نکتہ شامل کیا جائے کہ محدود فاصلے پر رہ کر بھی خاندان سے محبت اور خدمت برقرار رکھی جا سکتی ہے، ساتھ ہی صدقہ، دعا اور مثبت طرزِ فکر کے ذریعے حسد، نظربد اور منفی اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے، جب بیوی مستقل نرمی، حوصلہ افزائی اور جذباتی تحفظ فراہم کرتی ہے تو شوہر کے اندر کا خوف کم ہونے لگتا ہے، اس کا اعتماد بحال ہوتا ہے اور وہ خود اس نتیجے پر پہنچنے لگتا ہے کہ الگ گھر دراصل سب کے لیے سکون اور توازن کا باعث بن سکتا ہے۔
الگ گھر جلد حاصل کرنے کے لئے ہم پہلے وظیفہ بھی بتا چکے ہیں ، آپ کو چاہیئے کہ الگ گھر کے لئے ظاہری کوشش کے ساتھ آپ وظیفہ بھی جاری رکھیں انشاء اللہ وظیفہ کی برکت سے آپ کو آپ الگ گھر حاصل کرنے کی ہر ظاہری کو شش میں جلد کامیابی حاصل ہوگی

note

وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے سب سے پہلے وظیفہ کی شرائط کو سمجھیں اور اس کے بعد وظیفہ شروع کریں انشاء اللہ آپ کی 14 دن کی محنت آپ کو آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ فائدہ دے گی ۔