اس آرٹیکل میں آپ کو قرآن پاک کی مقدس آیات سورۃ آل عمران (آیت نمبر 26 اور 27) کا خاص روحانی وظیفہ، اس کا ترجمہ، اس سے متعلق حدیث اور ان آیات کے پڑھنے سے حاصل ہونے والے بے شمار روحانی و دنیاوی فوائد کے بارے میں مکمل تفصیل فراہم کی جائے گی۔ یہ آیات قرآن مجید کے تیسرے پارے میں موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بے پناہ بادشاہت، قوت اور رحمت کے بیان پر مشتمل ہیں۔ ان آیات میں اللہ رب العزت خود اپنے بندوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ ہر نعمت، اختیار، عزت اور رزق کا مالک صرف اور صرف وہی ہے۔ اس کا ہر فیصلہ حکمت سے بھرپور ہے اور وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت میں ڈال دے۔ ان آیات کا ورد انسان کو تقدیر پر کامل یقین دلاتا ہے، دل کو سکون عطا کرتا ہے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے لیے شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ یہاں آپ سیکھیں گے کہ کس طرح ان آیات کا ایک خاص وظیفہ آپ کی ہر مشکل کو آسان، ہر پریشانی کو دور اور ہر حاجت کو پورا کر سکتا ہے۔
Surah Al Imran Ayat 26-27 in Arabic
Surah Al Imran Ayat 26-27 ka Tarjuma
(اے نبیؐ، ان سے) کہو: اے اللہ! اے بادشاہت کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہت عطا کر دے اور جس سے چاہے بادشاہت چھین لے۔ تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے۔ تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائی ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔
تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ تو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ اور تو جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔
Surah Al Imran Ayat 26-27 Hadees
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “سورۃ آل عمران کی یہ دو آیات (26-27) مجھے ایک خزانہ سے عطا کی گئی ہیں جو عرش کے نیچے سے آیا تھا۔” (اس روایت کو طبرانی نے المعجم الکبیر میں بیان کیا ہے، اور بعض علماء نے اسے حسن قرار دیا ہے)۔
ایک اور اثر میں آیا ہے کہ یہ آیات مصیبت کے وقت پڑھنے سے دل کو سکون ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرج کا دروازہ کھلتا ہے۔
Surah Al Imran Ayat 26-27 Wazifa
یہ آیات درحقیقت اللہ کی عظمت اور اس کی بے پایاں قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کا ورد آپ کی زندگی میں وہ روشنی اور طاقت لاسکتا ہے جو ہر اندھیرے کو چیر سکے۔ اگر آپ کسی بھی قسم کی پریشانی، مالی تنگی، دباؤ، یا ناامیدی کا شکار ہیں، تو اس وظیفہ کو اللہ پر توکل کرتے ہوئے آزمائیں۔
وظیفہ کے لئے آپ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کےبعد دو نفل نماز ہدیہ محمد آل محمد اس طرح ادا کریں کہ ان دونوں نوافل میں آپ الحمد شریف کے بعد 14-14 مرتبہ سورہ اخلاص تلاوت کریں ۔
نوافل ادا کرنے کے بعد آپ 10 مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
اس کے بعد آپ سورۃ آل عمران کی آیت 26 اور 27 کو 70 مرتبہ تلاوت کریں ۔
آخر میں آپ دوبارہ 10 مرتبہ درود شریف پڑھ کر اس وظیفہ کو بند کردیں اور اللہ سے اپنی پریشانی سے نجات کے لئے دعا کریں ۔
آپ نے بیان کیا گیا وظیفہ صرف عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے اور اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے ۔
وظیفہ مکمل ہونے کے بعد آپ روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ سورۃ آل عمران کی آیت 26 اور 27 ورد کرنے کی عادت بنائیں تاکہ آپ کو اس وظیفہ کی روحانی برکات ہمیشہ حاصل ہوتی رہیں
Surah Al Imran Ayat 26-27 ke Fawaid
اس وظیفہ کے روحانی و دنیاوی فوائد میں سے کچھ درج ذیل ہیں
دل میں اللہ کی بادشاہت اور قدرت پر پختہ یقین پیدا ہوتا ہے۔
تقدیر پر راضی رہنے کا جذبہ ملتا ہے۔
ہر قسم کی پریشانی، فکر اور ٹینشن دور ہوتی ہے۔
مالی تنگیوں کے دروازے کھلتے ہیں، رزق میں برکت ہوتی ہے۔
نوکری، کاروبار یا عہدے میں ترقی کے راستے ہموار ہوتے ہیں۔
دشمنوں یا حسد سے حفاظت رہتی ہے۔
ہر قسم کے خوف اور ڈر سے نجات ملتی ہے۔
فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
گھر میں سکون و امن قائم رہتا ہے۔
بیماریوں میں شفاء کی توقع ہوتی ہے۔
اولاد کی بہتری اور ان کی حفاظت کے لیے مفید ہے۔
قرض سے نجات کے لیے موثر عمل ہے۔
رشتوں کی مشکلات دور ہوتی ہیں۔
ہر مشکل میں اللہ کی مدد کا احساس ہوتا ہے۔
دل کی سختی دور ہو کر نرمی آتی ہے۔
ہر عمل میں اللہ کی رضا تلاش کرنے کا جذبہ ملتا ہے۔
برے خوابوں اور منفی اثرات سے بچاؤ ہوتا ہے۔
کسی بھی مقصد میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔
گناہوں سے توبہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
اللہ کی نعمتوں کے لیے شکرگزاری بڑھتی ہے۔
ہر کام میں برکت ہوتی ہے۔
ذہنی سکون اور طمانیت قلب میسر آتی ہے۔
مشکلات میں گھبراہٹ کی بجائے صبر کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔
اللہ کی خاص رحمت اور نظرِ کرم کا احاطہ ہوتا ہے۔
ہر طرح کے جادو، نظر بد اور حسد کے اثرات سے حفاظت ہوتی ہے۔
دعا قبول ہونے کے راستے کھلتے ہیں۔
نیک صحبت اور اچھے راستے میسر آتے ہیں۔
امتحان یا انٹرویو میں کامیابی کے لیے مفید ہے۔
اللہ اور بندے کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے۔
ہر قسم کے ظلم و ستم سے نجات ملتی ہے۔
سفر میں آسانی اور حفاظت ہوتی ہے۔
منفی خیالات اور وسوسوں سے نجات ملتی ہے۔
گھر یا کاروبار میں خوشحالی آتی ہے۔
اولاد کی نیک تربیت میں آسانی ہوتی ہے۔
ہر محنت میں کامیابی ملتی ہے۔
قوتِ حافظہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
تنہائی اور مایوسی کے احساسات دور ہوتے ہیں۔
اللہ کی طرف سے خاص مدد کے فرشتے مقرر ہوتے ہیں۔
آخرت کی تیاری کا ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے۔
ہر کام میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں۔
غربت اور مفلسی دور ہوتی ہے۔
اللہ کی محبت دل میں بسیٹ ہو جاتی ہے۔
ہر قسم کے خطرات سے حفاظت رہتی ہے۔
روحانی ترقی اور قربِ الہٰی کا دروازہ کھلتا ہے۔
گناہوں سے بچنے کی طاقت ملتی ہے۔
ہر مصیبت سے نکلنے کا راستہ نظر آتا ہے۔
دل میں دوسروں کے لیے محبت اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔
زندگی کے ہر شعبے میں توازن قائم ہوتا ہے۔
آخرت میں اللہ کی رحمت اور جنت کی امید بڑھتی ہے۔
Note:
وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ، لہذا وظیفہ شروع کرنے سے پہلے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے ضروری ہدائیات کو سمھ لیں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو مزید رہنمائی کی ضرورت ہے تو آپ ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ آپ کو ہمارئے نیٹ ورک سے صحیح روحانی رہنمائی حاصل ہوگی ۔
