اس پوسٹ میں آپ کو اللہ پاک کے صفاتی نام “یا علیم” کا وظیفہ اور اس وظیفہ کی روحانی برکات و فوائد کے بارے میں مکمل تفصیل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
“العلیم” اللہ تعالیٰ کے خوبصورت ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس نام کا مطلب ہے “سب کچھ جاننے والا”، “بے حد علم رکھنے والا”۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے، خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ، چھوٹی ہو یا بڑی، زمین و آسمان میں کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔
یہ نام مبارک اللہ تعالیٰ کی صفت “علم” سے نکلا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر زندہ و پائندہ کی خبر رکھنے والا ہے (سورۃ البقرہ:255)
“یا علیم” کا ورد و وظیفہ ان لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جو علم میں اضافہ چاہتے ہیں، فیصلے کرنے میں الجھن محسوس کرتے ہیں، یا زندگی کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ نام ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے، سمجھ بوجھ میں اضافہ کرنے اور بصیرت عطا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
اس مضمون میں ہم آپ کو “یا علیم” پڑھنے کا آسان طریقہ، اس کے شرعی فوائد، اور اس کی روحانی برکات سے آگاہ کریں گے تاکہ آپ اس نامِ گرامی پر عمل کرکے اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔

Ya Aleem in Arabic

Ya Aleem Ka Tarjuma

اللہ کے نام “یا علیم” کا ترجمہ ہے: “اے سب کچھ جاننے والے”۔
اس کے معانی ہیں: اے ہر ظاہر و پوشیدہ سے باخبر، اے تمام رازوں سے واقف، اے ہر شے کے علم رکھنے والے، اے ازل و ابد کے علم والے۔

Ya Aleem Ki Hadith

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: “یا حی یا قیوم برحمتک استغیث، اصلح لی شانی کلہ ولا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین” (اے زندہ، اے قائم رہنے والے، تیری رحمت کے وسیلے سے فریاد کرتا ہوں، میرے تمام معاملات درست فرما دے اور مجھے پل بھر کے لیے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کر)۔
اگرچہ اس حدیث میں “یا علیم” کا ذکر نہیں، لیکن علم والے ہونے کی صفت “حی” اور “قیوم” میں شامل ہے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔” (مسلم)۔ “یا علیم” کا ورد اس حدیث پر عمل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

Ya Aleem Ka Wazifa

اللہ کے اس نام میں بے پناہ برکات ہیں۔ اگر آپ علم میں اضافہ چاہتے ہیں، امتحانات میں کامیابی کے خواہاں ہیں، یا زندگی کے کسی پیچیدہ مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں تو اس وظیفے کو ضرور کریں۔
وظیفہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد پاکیزگی کی حالت میں بیٹھ کر پہلے 10 مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
اس کے بعد درمیان میں 1100 مرتبہ “یا علیم” پڑھیں۔
آخر میں دوبارہ 10 مرتبہ درود شریف پڑھ کر اس وظیفہ کو بند کردیں۔
یہ وظیفہ آپ کو ہر روز عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے۔ اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے۔ انشاء اللہ 14 دن میں اللہ کی ذات آپ کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ فرمائے گی اور آپ کے تمام معاملات میں بصیرت عطا ہوگی۔
وظیفہ کی روحانی برکات کو ہمیشہ جاری رکھنے کے لیے آپ روزانہ کسی بھی وقت 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ “یا علیم” پڑھنے کی عادت ضرور بنائیں۔ اس سے آپ کا ذہن روشن رہے گا اور علم حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھے گی۔

Ya Aleem Kay Fawaid

اس نام مبارک کے وظیفہ سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کے علم اور عقل میں اضافہ فرماتا ہے اور سمجھ بوجھ عطا کرتا ہے۔
امتحانات میں کامیابی نصیب ہوتی ہے اور جو کچھ پڑھا ہوتا ہے وہ یاد رہتا ہے۔
فیصلے کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور صحیح فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ذہنی الجھنیں دور ہوتی ہیں اور دماغ صاف ہو جاتا ہے۔
حفظ کرنے کی قوت بڑھتی ہے اور چیزیں جلدی یاد ہو جاتی ہیں۔
غیب کی باتوں پر یقین مضبوط ہوتا ہے اور اللہ پر توکل بڑھتا ہے۔
دینی اور دنیاوی علوم میں مہارت حاصل ہوتی ہے اور گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
دوسروں کے مشورے دینے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور لوگ آپ کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔
کاموں میں احتیاط اور سمجھداری سے کام لینے کی توفیق ملتی ہے۔
برے کاموں سے بچنے کی توفیق ملتی ہے کیونکہ اللہ کے علم کا یقین دل میں مضبوط ہوتا ہے۔
بات چیت میں مؤثر انداز پیدا ہوتا ہے اور لوگ آپ کی بات سنتے ہیں۔
تحقیقی کاموں میں کامیابی ملتی ہے اور نئے حقائق سے پردہ اٹھتا ہے۔
تعلیمی میدان میں ترقی ہوتی ہے اور اعلیٰ مقام حاصل ہوتا ہے۔
اساتذہ اور بڑوں کی دعائیں ملتی ہیں اور وہ آپ سے خوش رہتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم و تربیت میں آسانی ہوتی ہے اور وہ ذہین ہوتے ہیں۔
پریشانیوں کا حل تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے اور راستے کھلتے ہیں۔
اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے کی توفیق ملتی ہے اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔
کاروبار میں صحیح فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے اور نقصان سے بچاؤ ہوتا ہے۔
زندگی کے تجربات سے سبق سیکھنے کی توفیق ملتی ہے اور غلطیاں نہیں دہرائی جاتیں۔
سمجھ بوجھ سے کام لینے کی وجہ سے حادثات اور پریشانیوں سے بچاؤ ہوتا ہے۔
قرآن و حدیث کو سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور دین کی سمجھ پیدا ہوتی ہے۔
حق اور باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور گمراہی سے بچاؤ ہوتا ہے۔
دعا کرنے کا سلیقہ آتا ہے اور ادب کے ساتھ مانگنے کا طریقہ سمجھ میں آتا ہے۔
اللہ کی عظمت کا احساس ہوتا ہے اور عبادت میں لطف آتا ہے۔
دنیا کی بے ثباتی کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی فکر بڑھتی ہے۔
بڑھاپے میں ذہنی تنزلی سے بچاؤ ہوتا ہے اور دماغ جوان رہتا ہے۔
نئے فنون اور ہنر سیکھنے میں آسانی ہوتی ہے اور مہارت جلدی حاصل ہوتی ہے۔
زبانوں پر عبور حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے اور نئی زبانیں سیکھنا آسان ہوتا ہے۔
تدریس کا شعبہ ہو تو طلبہ آپ سے فیض یاب ہوتے ہیں اور آپ کا مقام بلند ہوتا ہے۔
کسی بھی مسئلے کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔
مشکل سے مشکل کام کو سمجھ کر کرنے کی توفیق ملتی ہے اور غلطیاں کم ہوتی ہیں۔
حسد اور بغض جیسی بری صفات سے نجات ملتی ہے کیونکہ اللہ کے علم کا یقین ہوتا ہے۔
صبر اور شکر کی توفیق ملتی ہے اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رہتا ہے۔
مشورہ لینے اور دینے کا طریقہ آتا ہے اور لوگوں سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔
اخروی زندگی کی تیاری کا سلیقہ آتا ہے اور عمل صالح کی توفیق ملتی ہے۔
اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی صفات پر یقین پختہ ہوتا ہے۔
بری صحبت سے بچنے کی توفیق ملتی ہے اور اچھی صحبت نصیب ہوتی ہے۔
ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور مستقبل کو بہتر بنانے کی توفیق ملتی ہے۔
دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ بڑھتا ہے۔
جنت اور دوزخ کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے اور آخرت کی تیاری ہوتی ہے۔
موت کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے اور اس کی تیاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
قبر کے حالات کا علم ہوتا ہے اور اس کی سختیوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
حشر کے میدان کی ہولناکیوں کا احساس ہوتا ہے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق ملتی ہے۔
صراط اور میزان کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے اور حساب آسان ہونے کی دعا کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
جنت کی نعمتوں کا شوق پیدا ہوتا ہے اور ان کے حصول کے لیے کوشش بڑھتی ہے۔
دوزخ کے عذاب کا ڈر پیدا ہوتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے اعمال صالحہ کی توفیق ملتی ہے۔
اللہ کے حضور سجدہ کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے اور عاجزی بڑھتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق ملتی ہے۔
صحابہ کرام اور اولیاء اللہ کے طریقوں کو سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔
ہر طرح کی ظاہری اور باطنی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اللہ کی رحمت کے سائے میں زندگی گزرتی ہے۔

Note:

وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ، لہذا وظیفہ شروع کرنے سے پہلے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے ضروری ہدائیات کو سمھ لیں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو مزید رہنمائی کی ضرورت ہے تو آپ ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ آپ کو ہمارئے نیٹ ورک سے صحیح روحانی رہنمائی حاصل ہوگی ۔