کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں اندھیرا چھا جاتا ہے۔ دکھ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ہاتھ پھیلاتے ہیں تو کوئی پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ آنسو گرتے ہیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
لیکن کیا واقعی کوئی نہیں؟
اللہ تعالیٰ کا نام “یا کریم” ہے۔ کریم یعنی بے انتہا سخاوت کرنے والا، عزت دینے والا، بخشش کرنے والا۔ یہ نام ہمیں بتاتا ہے کہ ہم جس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ کبھی خالی نہیں لوٹاتا۔
آج کل ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے اور کیا نہیں۔ ہماری نگاہ دوسروں کی نعمتوں پر رہتی ہے۔ لیکن “یا کریم” پکارنے والے کو اللہ اپنی سخاوت سے نوازتا ہے۔ وہ نہ صرف مال دیتا ہے بلکہ عزت، سکون، صحت اور قناعت بھی عطا فرماتا ہے۔
یہ نام ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ بس ہم اسے پکارنا نہ بھولیں۔

Ya Karim in arabic

Tarjuma

اے بے انتہا سخاوت کرنے والے، اے عزت دینے والے، اے بخشش کرنے والے۔
کریم کے معنی ہیں وہ ذات جو دینے میں کوئی کمی نہ کرے، جو پوچھے بغیر دے، جو مانگنے سے پہلے ہی عطا فرما دے۔

Hadith

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
“بے شک اللہ تعالیٰ کریم ہے اور کریمی کو پسند فرماتا ہے۔” (ترمذی)
اس حدیث میں اللہ کے کرم اور اس کی صفت کریم ہونے کا ذکر ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ خود بھی کریم ہے اور اپنے بندوں میں بھی کریم صفات کو پسند کرتا ہے۔

Wazifa

یہ عمل کسی خاص تعداد کا پابند نہیں۔ اصل چیز دل کا اخلاص ہے۔
اگر آپ کسی مشکل میں ہیں، کوئی حاجت ہے، یا دل بے قرار ہے تو ہاتھ اٹھا کر پکارے:
“یا کریم”
صبح اٹھتے ہی تین مرتبہ پڑھ لیں۔ رات سونے سے پہلے بھی تین مرتبہ۔
کوشش کریں کہ اس نام کو پڑھتے وقت آپ کا دل اس بات پر یقین رکھے کہ جسے پکار رہے ہیں وہ سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے اور ضرور کوئی نہ کوئی راستہ نکالے گا۔
مسلسل سات دن تک روزانہ سو بار پڑھنا بہت بابرکت ہے لیکن اگر سو بار نہ بھی پڑھ سکیں تو جتنی مرتبہ پڑھ سکتے ہیں، دل سے پڑھیں۔ اللہ تعداد نہیں، خلوص دیکھتا ہے۔

Fawaid

یا کریم پکارنے والے پر اللہ کی سخاوت کے دروازے کھل جاتے ہیں
دل کی تنگی دور ہوتی ہے اور سکون ملتا ہے
رزق میں برکت آتی ہے
مشکل وقت میں اللہ کی مدد قریب آجاتی ہے
دوسروں کے ساتھ کریمی کا معاملہ کرنے کی توفیق ملتی ہے
عزت نفس بڑھتی ہے، خود کو کم تر محسوس کرنے سے نجات ملتی ہے
اللہ کی رحمت کی امید مضبوط ہوتی ہے
گناہوں کی بخشش کے دروازے کھلتے ہیں
حاجت پوری ہونے میں جلدی ہوتی ہے
تنہائی میں اللہ کا سہارا محسوس ہوتا ہے
قناعت کی دولت ملتی ہے
لوگوں کے درمیان مقبولیت بڑھتی ہے
پریشانیوں میں صبر کرنے کی توفیق ملتی ہے
اللہ کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے
زندگی میں برکت اور خوشحالی آتی ہے
دشمنوں اور حسد کرنے والوں سے حفاظت ہوتی ہے
مرنے کے وقت آسانی ہوتی ہے
قبر کی تنہائی میں نور ملتا ہے
آخرت میں اللہ کی کریمی کا سایہ ملے گا
ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ بن جاتا ہے

Note:

وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ، لہذا وظیفہ شروع کرنے سے پہلے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے ضروری ہدائیات کو سمھ لیں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو مزید رہنمائی کی ضرورت ہے تو آپ ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ آپ کو ہمارئے نیٹ ورک سے صحیح روحانی رہنمائی حاصل ہوگی ۔