اس پوسٹ میں آپ کو اللہ پاک کے صفاتی نام “یا قابض” کا وظیفہ اور اس وظیفہ کی روحانی برکات و فوائد کے بارے میں مکمل تفصیل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ “القابض” اللہ تعالیٰ کے خوبصورت ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس نام کا مطلب ہے “قبضہ کرنے والا”، “روک لینے والا”، “تنگی کرنے والا”۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے تنگی دیتا ہے۔ وہی روحوں کو قبض کرنے والا ہے اور وہی دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے۔ یہ نام مبارک اللہ تعالیٰ کی صفت “قبض” سے نکلا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کو اپنے قبضے میں رکھنے والا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور اللہ تنگی کرتا ہے اور کشادگی دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (سورۃ البقرہ:245) “یا قابض” کا ورد و وظیفہ ان لوگوں کے لیے بہت مفید ہے جو اپنے نفس پر قابو پانا چاہتے ہیں، بری عادات سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں، یا اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نام نفسانی خواہشات پر قابو پانے، غصے پر ضبط کرنے اور دل کو دنیا کی محبتوں سے روکنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس مضمون میں ہم آپ کو “یا قابض” پڑھنے کا آسان طریقہ، اس کے شرعی فوائد، اور اس کی روحانی برکات سے آگاہ کریں گے تاکہ آپ اس نامِ گرامی پر عمل کرکے اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔
Ya Qabiz in Arabic
Ya Qabiz Ka Tarjuma
اللہ کے نام “یا قابض” کا ترجمہ ہے: “اے قبضہ کرنے والے”۔ اس کے معانی ہیں: اے رزق روکنے والے، اے جان قبض کرنے والے، اے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والے، اے اپنی قدرت سے ہر چیز کو اپنے قبضے میں رکھنے والے۔
Ya Qabiz Ki Hadith
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو میرے لیے خرچ کر، میں تیرے لیے خرچ کروں گا۔” (بخاری و مسلم)۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ہی رزق دینے والا اور روکنے والا ہے۔ ایک اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم میں سے کسی کا معاملہ اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے نفس پر قابو نہ پا لے۔” (بیہقی)۔ “یا قابض” کا ورد نفس پر قابو پانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
Ya Qabiz Ka Wazifa
اللہ کے اس نام میں بے پناہ برکات ہیں۔ اگر آپ کو غصہ زیادہ آتا ہے، بری عادات سے نجات چاہتے ہیں، یا اپنے جذبات پر قابو پانا چاہتے ہیں تو اس وظیفے کو ضرور کریں۔
وظیفہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد پاکیزگی کی حالت میں بیٹھ کر پہلے 10 مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
اس کے بعد درمیان میں 2100 مرتبہ “یا قابض” پڑھیں۔
آخر میں دوبارہ 10 مرتبہ درود شریف پڑھ کر اس وظیفہ کو بند کردیں۔
یہ وظیفہ آپ کو ہر روز عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے۔ اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے۔ انشاء اللہ 14 دن میں اللہ کی ذات آپ کو اپنے نفس پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے گی اور آپ کی بری عادات و اخلاق دور ہو جائیں گے۔ یا قابض کا وظیفہ دشمن ، دشمن کے حسد ، جنات اور شیطانی اثرات سے جسم اور گھر کو پاک کرتا ہے اور اس کی برکت سے مسلمان کے دل میں برائی سے نفرت ہمیشہ قائم رہتی ہے اس کے علاوہ اسی وظیفہ کی برکت سے مسلمان کو عزت اور زندگی کے ہر میدان میں کامیابی بھی ملتی رہتی ہے ۔
وظیفہ کی روحانی برکات کو ہمیشہ جاری رکھنے کے لیے آپ روزانہ کسی بھی وقت 10 مرتبہ درود شریف اور 10 مرتبہ “یا قابض” پڑھنے کی عادت ضرور بنائیں۔ اس سے آپ کا نفس آپ کے قابو میں رہے گا اور شیطان کے وسوسوں سے حفاظت ہوگی۔
Ya Qabiz Kay Fawaid
اس نام مبارک کے وظیفہ سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جو آپ کی زندگی کو سنوارنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے نفس پر قابو پانے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور بری خواہشات کم ہو جاتی ہیں۔ غصہ کم آتا ہے اور غصے کے وقت ضبط کرنے کی طاقت ملتی ہے۔ بری عادات جیسے سگریٹ نوشی، شراب نوشی وغیرہ سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ دل کو دنیا کی محبتوں سے روکنے اور آخرت کی فکر بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ فضول خرچی سے بچنے اور ضروری چیزوں پر خرچ کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ زبان کو غیبت، چغلی اور جھوٹ سے روکنے کی طاقت ملتی ہے۔ آنکھوں کو حرام دیکھنے سے بچانے کی توفیق ملتی ہے اور نگاہ کی حفاظت ہوتی ہے۔ کانوں کو بری باتوں اور گانے باجے سے روکنے کی توفیق ملتی ہے۔ پیٹ کو حرام کھانے سے بچانے کی توفیق ملتی ہے اور حلال روزی کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ شہوت پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور نکاح میں برکت ہوتی ہے۔ شیطان کے وسوسوں سے حفاظت ہوتی ہے اور دل میں ایمان کی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ بری صحبت سے بچنے کی توفیق ملتی ہے اور اچھی صحبت نصیب ہوتی ہے۔ جھوٹی امیدوں اور فضول خوابوں سے نجات ملتی ہے اور حقیقت پسندی آتی ہے۔ دل سے حسد، بغض، کینہ اور تکبر جیسی بری صفات دور ہوتی ہیں۔ اللہ کے علاوہ کسی اور سے امید لگانے سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ دنیا کی محبت دل سے نکلتی ہے اور آخرت کی محبت بڑھتی ہے۔ موت کو یاد رکھنے اور اس کی تیاری کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ قبر کے عذاب سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور اس سے بچنے کی کوشش ہوتی ہے۔ قیامت کے حساب کا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے اور نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے۔ نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے اور دل اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ روزے میں برائیوں سے بچنے کی طاقت ملتی ہے اور روزے کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ صدقہ و خیرات کرنے کی توفیق ملتی ہے اور دل سے کنجوسی دور ہوتی ہے۔ حج و عمرہ کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور دل کو گناہوں سے روکنے کی طاقت ملتی ہے۔ والدین کی نافرمانی سے بچنے کی توفیق ملتی ہے اور ان کی خدمت نصیب ہوتی ہے۔ رشتہ داروں سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں اور صلہ رحمی کی توفیق ملتی ہے۔ پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق ملتی ہے اور ان سے اچھا سلوک کرنا آتا ہے۔ یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور ان پر خرچ کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ مظلوم کی مدد کرنے اور ظالم کو روکنے کی ہمت ملتی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کی طاقت ملتی ہے۔ دعوت دین کا کام کرنے کی توفیق ملتی ہے اور لوگوں کو برائیوں سے روکنے کی ہمت ملتی ہے۔ جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کی توفیق ملتی ہے۔ علم حاصل کرنے میں دل لگتا ہے اور فضول مشاغل سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ قرآن پڑھنے اور سمجھنے میں دل لگتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ ذکر و اذکار کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے اور دل کو دنیا سے روکنے میں مدد ملتی ہے۔ توبہ کرنے کی توفیق ملتی ہے اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ استغفار کرنے کی عادت بنتی ہے اور دل کو گناہوں سے پاک رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ رات کو عبادت کرنے کی توفیق ملتی ہے اور نیند پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ دن بھر اللہ کی یاد میں گزارنے کی توفیق ملتی ہے اور دل کو دنیا سے روکے رکھتا ہے۔ سفر میں حفاظت رہتی ہے اور برے واقعات سے بچاؤ ہوتا ہے۔ تجارت میں دیانت داری آتی ہے اور جھوٹ، دھوکہ سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ ملازمت میں ایمانداری سے کام کرنے کی توفیق ملتی ہے اور خیانت سے بچاؤ ہوتا ہے۔ سیاست میں حق پر قائم رہنے کی طاقت ملتی ہے اور ناحق کاموں سے رکنے کی توفیق ملتی ہے۔ عدالت میں حق کی گواہی دینے کی ہمت ملتی ہے اور جھوٹی گواہی سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ طبیعت میں اعتدال آتا ہے اور حد سے بڑھنے سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ کھانے پینے میں میانہ روی آتی ہے اور فضول خرچی سے بچاؤ ہوتا ہے۔ نیند پوری ہوتی ہے اور بے وقت سونے اور جاگنے سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ بات چیت میں اعتدال آتا ہے اور فضول گوئی سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ دوستوں کے انتخاب میں احتیاط آتی ہے اور برے دوستوں سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ شادی شدہ زندگی میں اعتدال آتا ہے اور حقوق کی ادائیگی میں کمی نہیں ہوتی۔ اولاد کی تربیت صحیح طریقے سے ہوتی ہے اور انہیں برائیوں سے روکنے کی توفیق ملتی ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی حدود کا خیال رہتا ہے اور ان سے تجاوز کرنے سے بچنے کی توفیق ملتی ہے۔ آخرت میں اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور جنت الفردوس میں داخلہ ملتا ہے۔ ہر طرح کی ظاہری اور باطنی برائیوں سے حفاظت ہوتی ہے اور اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔
Note:
وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ، لہذا وظیفہ شروع کرنے سے پہلے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے ضروری ہدائیات کو سمھ لیں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو مزید رہنمائی کی ضرورت ہے تو آپ ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ آپ کو ہمارئے نیٹ ورک سے صحیح روحانی رہنمائی حاصل ہوگی ۔
