کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ زندگی میں کچھ معاملے ایسے ہوتے ہیں جنہیں آپ بار بار سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن الجھن بڑھتی جاتی ہے؟ کوئی فیصلہ کرنا ہو تو دل مطمئن نہیں ہوتا۔ کسی سے حساب کتاب ہو جائے تو اندر سے یہی آواز آتی ہے کہ کاش کوئی میری طرف سے سنبھال لیتا۔
ہم سب کسی نہ کسی موڑ پر پریشان ہوتے ہیں۔ حساب دینے والے بھی اور حساب سمجھنے والے بھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا نام “یا حسیب” ہمیں بتاتا ہے کہ ایک ذات ایسی ہے جو ہر بات کا پورا پورا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس نے ہر عمل، ہر نیت، ہر آنسو اور ہر خاموش آہ کو شمار کر رکھا ہے۔
یہ نام اللہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک بہت گہرا نام ہے۔ حسیب کے معنی ہیں “کافی” بھی اور “حساب لینے والا” بھی۔ جب آپ کہتے ہیں “یا حسیب” تو گویا آپ کہہ رہے ہیں کہ اے میرے رب! تو میرے لیے کافی ہے، تو ہر چیز کا جاننے والا ہے، میرے معاملات کو سنبھالنے والا ہے۔
آج ہم اس نام کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ اس امید کے ساتھ کہ شاید آج کچھ سکون ملے۔ شاید آج یہ یقین تازہ ہو جائے کہ میرے رب کے پاس میری ہر بات کا ریکارڈ ہے، اور وہ بے حساب دینے والا بھی ہے۔

Ya Hasib in arabic

Ya--asibu

Tarjuma

اے وہ ذات جو ہر چیز کا پورا حساب رکھنے والی ہے، جو میرے لیے کافی ہے، جس کے علم میں میرے کل اور آج سب کچھ موجود ہے۔

Hadith

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
“اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالِْکْرَامِ”
اس دعا میں اللہ کے عظیم ناموں کے ساتھ اس کی حمد اور توحید کا اظہار ہے۔ اگرچیں “یا حسیب” کا لفظ اس حدیث میں مذکور نہیں، لیکن یہی نام اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور اسے پکارنے کی ہمیں حدیث میں ترغیب دی گئی ہے کہ اللہ کے حسنیٰ ناموں سے اسے پکاریں۔

Wazifa

بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ کوئی خاص عدد پڑھنا ضروری ہے۔ لیکن اصل بات عدد میں نہیں، اصل بات دل کی توجہ میں ہے۔
اگر آپ کسی معاملے میں پریشان ہیں، کسی سے ناانصافی ہوئی ہے، کسی نے آپ کا حق مارا ہے، یا آپ کسی حساب کتاب میں الجھے ہوئے ہیں تو یہ عمل شروع کریں
ہر نماز کے بعد تین مرتبہ “یا حسیب” پکاریں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوچیں کہ جس ذات کو میں پکار رہا ہوں، وہ میرے معاملے کو میرے سے بہتر جانتی ہے۔
رات سوتے وقت اگر دل بوجھل ہو تو سینے پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ “یا حسیب” کہیں اور پھر سو جائیں۔
یاد رکھیں، یہ کوئی جادو نہیں۔ یہ آپ کے دل اور آپ کے رب کے درمیان ایک رشتہ ہے۔ اگر آپ سچے دل سے پکاریں گے، تو وہ سنے گا۔ اور اس کے سننے کا انداز ہمارے سمجھنے سے بہت بلند ہے۔
تسلسل رکھیں۔ ایک دن میں نہ ہو تو دس دن، دس دن میں نہ ہو تو مہینہ۔ لیکن دل کو اس یقین کے ساتھ لگائے رکھیں کہ “حسبی اللہ و نعم الوکیل” میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔

Fawaid

جب آپ یا حسیب کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں تو آہستہ آہستہ یہ برکتیں آپ کے اندر اترتی ہیں:
آپ کا دل یہ سکھ جاتا ہے کہ ہر چیز کا حساب کتاب اللہ کے پاس ہے
لوگوں سے ناانصافی ہو تو آپ بے چین نہیں ہوتے
آپ کے اندر صبر کی طاقت بڑھ جاتی ہے
آپ کسی کے بارے میں زیادہ سوچنے سے بچ جاتے ہیں
فیصلے کرنے میں آسانی محسوس ہوتی ہے
آپ یہ جان کر سکون پاتے ہیں کہ کوئی بھی عمل ضائع نہیں جاتا
دوسروں کے حقوق کے بارے میں آپ زیادہ حساس ہو جاتے ہیں
آپ کی نیتوں میں خلوص بڑھتا ہے
حساب کتاب کا خوف آپ کو گناہوں سے روکتا ہے
آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا
آپ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچتے ہیں
تنہائی میں بھی آپ کو سکون ملتا ہے
آپ دوسروں کے معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کرتے
آپ کی زندگی میں بے جا فکریں کم ہو جاتی ہیں
آپ کو احساس ہوتا ہے کہ سب سے بڑا حساب تو قیامت کا ہے، پھر دنیا کے حساب چھوٹے لگتے ہیں
اللہ پر آپ کا بھروسہ مضبوط ہوتا ہے
آپ ہر معاملے میں اللہ کو کافی سمجھنے لگتے ہیں
آپ کی عبادت میں خشوع آ جاتا ہے
آپ کی دعائیں زیادہ دل سے نکلتی ہیں
آپ کو زندگی کا ایک بڑا فلسفہ سمجھ آ جاتا ہے کہ سب کچھ ایک اعلیٰ نظام کے تحت ہے

 

Note:

وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ، لہذا وظیفہ شروع کرنے سے پہلے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے ضروری ہدائیات کو سمھ لیں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو مزید رہنمائی کی ضرورت ہے تو آپ ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ آپ کو ہمارئے نیٹ ورک سے صحیح روحانی رہنمائی حاصل ہوگی ۔