زندگی میں کبھی نہ کبھی ہمارا دل کہتا ہے کہ ہم صحیح فیصلہ کر رہے ہیں، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ہم غلط تھے۔ کبھی دوستوں میں، کبھی کاروبار میں، کبھی شادی جیسے اہم معاملے میں۔ پھر ہم سوچتے ہیں: کاش مجھے پہلے ہی پتہ ہوتا! کاش کوئی ایسا ہوتا جو میرے دل کی اندرونی باتوں کو جان لیتا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اللہ کے صفاتی نام یا حکیم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ حکیم یعنی وہ ذات جس کا ہر فیصلہ، ہر حکم، ہر تدبیر انتہائی گہری حکمت سے بھری ہو۔ وہ جو سب کچھ جانتا ہے اور پھر بہتر جانتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ جب آپ کہتے ہیں یا حکیم، آپ اپنے اختیارات کو اللہ کے سپریم فیصلوں کے آگے جھکا رہے ہوتے ہیں۔ دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اب آپ نے وہ حکمت مان لی جو کبھی غلط نہیں ہوتی۔

Ya Hakeem in arabic

Ya-Hakeem

Tarjuma

اے وہ ذات جس کی ہر بات، ہر کام اور ہر فیصلے میں حکمت ہے۔ جو بے حکمت کام نہیں کرتا۔ جو جانتا ہے کہ کسے کیا دینا ہے اور کب دینا ہے۔

Hadith

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”بڑا حکمت والا وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلائے۔“ (سنن ابن ماجہ)

Wazifa

جب بھی کوئی معاملہ الجھ جائے، کوئی فیصلہ سمجھ نہ آئے یا دل بے چین ہو تو یہ کریں:
وضو کریں۔ دو رکعت نفل پڑھیں۔ نیت یہ کریں کہ یا اللہ، تو حکیم ہے، مجھے سمجھ دے۔ پھر 100 مرتبہ “یا حکیم” پڑھیں۔ اس کے بعد جو پہلا اچھا خیال دل میں آئے، اس پر عمل کریں اور پھر پیچھے نہ دیکھیں۔
بہتر یہ ہے کہ یہ عمل ہر عصر کے بعد 40 دن تک کیا جائے۔ تعداد سے زیادہ اخلاص ضروری ہے۔ بس اتنا یاد رکھیں: جو ہوگا، اچھا ہوگا۔
بعض بزرگوں نے یا حکیم کا وظیفہ کو 14 دن کر نےکامشو رہ دیایعنی
وظیفہ کے لئے آپ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد 10 مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
درمیان میں آپ 313 مرتبہ یا حکیم پڑھیں۔
آخر میں آپ دوبارہ 10 مرتبہ درود شریف پڑھ کر اس وظیفہ کو بند کردیں۔
بیان کیا گیا وظیفہ آپ نے ہر روز عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے اور اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے انشاء اللہ 14 دن میں اللہ کی ذات آپ کی ہر پریشانی کو دور فرمائیں گے۔

Fawaid

دل کو سکون ملتا ہے
فیصلوں میں بے چینی کم ہوتی ہے
پچھتانے کی عادت ختم ہوتی ہے
جب کوئی برا وقت آتا ہے تو حکمت سمجھ آنے لگتی ہے
لوگوں کے ساتھ نرمی پیدا ہوتی ہے
غلطی پر زیادہ دیر نہیں روتے
اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنے کی توفیق ملتی ہے
دمعاشی اور بے صبری کم ہوتی ہے
حسد اور جلن سے بچاؤ ہوتا ہے
کاموں میں برکت آتی ہے
بچوں کی تربیت میں مدد ملتی ہے
بیوی یا شوہر کے ساتھ تعلقات بہتر ہوتے ہیں
خوابوں کی تعبیر سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے
برے لوگوں سے بچنے کی سمجھ آتی ہے
گی کے تجربات سے سبق لینے کی صلاحیت بڑھتی ہے
موت کے بعد کی تیاری سمجھ میں آتی ہے
دعاؤں کی قبولیت میں برکت ہوتی ہے
ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے
معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت ملتی ہے
دنیا کی بے ثباتی سمجھ میں آتی ہے
آخرت کی فکر دل میں جمتی ہے

Note:

وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ، لہذا وظیفہ شروع کرنے سے پہلے نیچے دئے گئے بٹن پر کلک کرکے ضروری ہدائیات کو سمھ لیں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو مزید رہنمائی کی ضرورت ہے تو آپ ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ کر سکتے ہیں انشاء اللہ آپ کو ہمارئے نیٹ ورک سے صحیح روحانی رہنمائی حاصل ہوگی ۔