کالا جادو سے شفاء اور حفاظت کے لئے آپ نے جن احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنا ہے ان کی تفصیل آپ کو اس پوسٹ میں حاصل ہوگی ۔ہماری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس پوسٹ میں موجود ہر ہر لائن کو سمجھ کر پڑھیں تاکہ آپ کو حقیقت میں کالا جادو سے شفاء اور حفاظت ہو ۔
یاد رہے کہ بے شمار اولیا کے مشاہدات کا نچوڑ یہ ہے کہ کالا جادو اور شیطانی طاقتوں سے ہمیشہ وہ مسلمان مٹاثر ہوتے ہیں جو کہ حصار نبوی سے دور ہوتے ہیں جبکہ حصار نبوی وہ 5 اسلامی احکامات ہیں جن کا ہر مسلمان کے لئے سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ حصار نبوی اولیا کی اصطلاع ہے یہ حدیث میں موجود نہیں لیکن اس کے اجزا حدیث میں موجود ہیں اور یہ حتمی سچائی اور حقیقت ہے ۔
جو لوگ حصار نبوی کے 5 احکامات پر عمل کرتے ہیں ان کے گرد ایک روحانی حصار قائم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے انہیں شیطان ، کالا جادو ، جنات ، دشمن اور حسد کی وجہ سے نقصانات کا سامنا نہیں ہوتا ، لیکن جو مسلمان حصار نبوی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے وہ زندگی میں کبھی نہ کبھی شیطانی طاقتوں ، کالا جادو اور دشمن کا شکار ہو کر نقصانات کا سامنا کرتے ہیں، لہذا ہماری آپ سے گزارش ہے کہ آپ حصار نبوی کو سمجھیں اور اس کے بعد اس پر عمل کریں، اس کے علاوہ ٰ آپ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ کالا جادو کا علاج صرف 10 فیصد کام کرتا ہے جبکہ کالا جادو سے شفاء اور حفاظت کے لئے 90 فٰیصد کام حصار نبوی کا ہے ۔
جس کی تفصیل آپ کو اس پوسٹ میں حاصل ہوگی ۔
کچھ بزرگوں کا خیال ہے کہ حصار نبوی ایک قدرتی روحانی حفاظت ہے جو کہ ہر مسلمان کو پیدائش کے وقت سے ہی حاصل ہوتی ہے ، اس حصار نبوی کی وجہ سے مسلمان شیطانی طاقتوں ، حسد اور کالا جادو سے ہمیشہ محفوظ رہتا ہے ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ شیطان انسان میں ایسی خواہشات پیدا کر دیتا ہے جنہیں حاصل کرنے کی کوشش میں مسلمان حصار نبوی سے محروم ہو جاتا ہے جبکہ حصار نبوی سے محرومی کی وجہ سے آپ کو زندگی میں کبھی نہ کبھی شیطانی طاقتوں کی وجہ سے بھیانک نقصانات ضرور ہوں گے ۔
حصار نبوی 5 اسلامی احکامات کا مجموعہ ہیں جو کہ درج ذیل ہیں ۔
نماز
صدقہ اور زکات
سود سے بچاو
شراب سے دوری
بدتمیزی سے پرہیز
بیان کئے گئے 5 اسلامی احکامات کو ہر مسلمان جانتا اور سمجھتا ہے، لیکن اس پوسٹ میں بیان کئے گئے احکامات کے بارئے میں جن باتوں کا تزکرہ کیا گیا ہے انہیں کم لوھ جانتے ہوں گے اور یہ باتیں کم و بیش 300 اولیاء کے مشاہدات کا نچوڑ ہیں ان احکامات پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو جن نقصانات کا سامنا ہوتا ہے آپ نے کبھی ان کے بارئے میں نہیں سوچا ہوگا،
Qaza Namaz
حصار نبوی کا پہلا حکم نماز ہے اگر کوئی مسلمان محبت سے نماز ادا کرتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ حصار نبوی میں رہتا ہے جبکہ اگر کوئی مسلمان جان بوچھ کر نماز قضاء کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے حصار نبوی سے دور کر دیا جاتا ہے، حصار نبوی سے دوری کی وجہ سے آپ زندگی میں کبھی نہ کبھی شیطانی طاقتوں کا شکار ضرور ہوں گے ، اور ایسی شیطانی طقتوں میں کالا جادو ، جنات اور دشمن کی سازش ہو سکتی ہے ۔ حدیث کے مطابق جان بوجھ کر نماز قضاء کرنے والے کا نام جہنم کے دروازئے پر بھی لکھ دیا جاتا ہے، نماز سب سے بڑی روحانی حفاظت ہے اور جو لوگ بغیر شرط کے نماز کے ادا کرتے ہیں وہ جس جگہ قدم رکھتے ہیں وہاں سے شیطانی طاقتیں خوف ذدہ ہو کر دور ہو جاتی ہیں ۔
نماز کسی بھی مسلمان کو معاف نہیں بلکہ اسلام میں سب سے بڑی عبادت صرف نماز ہے ، لیکن یاد رہے کہ محض قیام ، رکوع اور سجدہ نماز نہیں ، بلکہ کامل نماز وہ ہے جب ہم ان تمام احکامات کو اپنائیں جو ہمیں نماز سیکھاتی ہے ۔ جبکہ نماز ہمیں صدقہ اور زکات مستحق کو ادا کرنے ،سود کا لین دین، بد اخلاقی ، شراب اور زنا سے بچنے کا درس دیتی ہے ۔لہذا جن مسلمانوں کی نماز کامل ہو جاتی ہے ان پر کالا جادو اور شیطانی طاقتوں کا اثر نہیں ہوتا ، اس کے علاوہ اگر آپ کالا جادو اور شیطانی طاقتوں کا شکار ہیں تو کامل نماز ادا کرنے کی وجہ سے آپ کے جسم اور گھر سے شیطانی طاقتوں اور کالا جادو کے اثرات ختم ہو جائیں گے ۔
نماز حصار نبوی کا پہلا اور سب سے اہم حکم ہے، لہذا اگر آپ حصار نبوی کی روحانی برکات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نماز کو کامل کریں جبکہ کامل نماز کے لئے 4 باتوں کا آپ کو تمام زندگی خیال رکھنا ہوگا جو کہ درج ذیل ہیں ۔
صدقہ اور زکات
سود سے بچاو
شراب سے دوری
بدتمیزی سے پرہیز
Sadaqah aur Zakat Sirf Mustahiq Ko Dein
صدقہ اور زکات صرف مستحق کو ادا کرنا حصار نبوی کا دوسرا حکم ہے ، اگر کوئی مسلمان صرف مستحق کو صدقہ اور زکات ادا کرتے ہیں تو اس کی برکت سے انہیں طاقتور روحانی حفاظت حاصل ہوتی ہے اور وہ شیطانی طاقتوں ، کالا جادو ، جنات اور دشمن سے محفوظ رہتے ہیں ، اس کے علاوہ مستحق کو صدقہ ادا کرنے کی وجہ سے مسلمان حادثاٹ اور ناگہانی آفات و بلیات سے بھی ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں ،
لیکن اگر کوئی مسلمان غیر مستحق کو صدقہ اور زکات کی دیتا ہے یا صدقہ اور زکات ادا نہیں کرتا تو دونوں صورتوں میں وہ حصار نبوی سے محروم ہو جاتا ہے جبکہ حصار نبوی سے محروم ہونے کی وجہ سے شیطان آپ کو ہر قسم کی پریشانی میں مبتلاء کردے گا اور آپ آسانی سے کالا جادو کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔
غیر مستحق کو صدقہ اور زکات ادا کرنے کی وجہ سے آپ کو روحانی فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس کی وجہ سے آپ خیروبرکت سے محروم بھی ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات ایسا کرنا گناہ کا سبب بھی ہوتا ہے ۔
یعنی اگر
آپ کسی کو 10 روپے صدقہ کرتے ہیں اور اس کے بعد وہ شخص آپ کے صدقے کے پیسوں سے سگریٹ خریدتا ہے تو اس کی نحوست کا شکار آپ ہوں گے ، یعنی آپ نے کسی کوسگریٹ خریدنے کے لئے پیسے دئے جو کہ اسلام میں منع ہے ۔
بعض لوگ مذہبی تنظیمیوں کو صدقہ کرتے ہیں لیکن اکثر مذہنی تنظیمیں فرقہ واریت کے فروغ کے لئے ان پیسوں کو استعمال کرتی ہیں اور اگر آپ ایسی تنظیموں کو صدقہ یا زکات دیتے ہیں جو دین میں تفرقہ پیدا کرتی ہیں تو آپ گہنگار ہیں ۔
اگر کوئی مسلمان صحت مند ہے ، اس کے ہاتھ پاوں اور آنکھیں سلامت ہیں اور آپ اس کو صدقہ یا زکات دیتے ہیں اس کا مطلب آپ ایک مسلمان کو محنت کرکے رزق کمانے سے روکتے ہیں اور اس طرح معاشرئے میں بھیکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور اس گناہ میں آپ کے پیسے بھی شامل ہیں ۔
ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوا ہو کہ ہم نے تو صاف نیت سے صدقہ دیا اس کے بعد بھیکاری نے صدقے کے پیسوں کا کیا کیا اس کا ہم سے تو لینا دینا نہیں ۔
اگر ہم صدقہ اور زکات کی مقصدیت کو سمجھیں گے تو ہمیں ہمارئے ہر سوال کا جواب مل جائے گا ۔
ممکن ہے کہ ذیادہ تر لوگوں کو بیان کی گئی باتیں ہضم نہ ہو اور وہ سوچیں کہ صدقہ اور زکات دینے سے بہتر یہ ہے کہ اسے نہ دیا جائے ۔
یاد رہے کہ اسلام صرف غیر مستحق کو صدقہ اور زکات دینے سے منع کرتا ہے جبکہ مستحق کو صدقہ دینے سے بری موت اور مشکلات سے مسلمان کو نجات ملتی لیکن غیر مستحق کو صدقہ دینے سے آپ کو روحانی اور ظاہری فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ایسا کرنے سے آپ حصار نبوی سے دور ہوں گے جبکہ حصار نبوی سے دور ہونے کی وجہ سے آپ کو کبھی بھی کالا جادو ، شیطانی طاقتوں اور دشمنوں سے نجات نہیں ملی گی ۔
غیر مستحق کو صدقہ اور زکات دینا اور کسی غیر مستحق کا صدقہ اور زکات کی رقم کا استعمال کرنا شیطانی کو خوشی دینے والے اعمال ہیں اور ایسے اعمال شیطانی رسومات میں شمار کئے جاتے ہیں ۔
یاد رہے کہ اگر کوئی شخص صدقہ اور زکات کا مستحق نہیں لیکن اس کے باوجود وہ آپ کو جذباتی کرکے آپ سے صدقہ اور زکات وصول کرتا ہے تو ایسا کرنا کچھ بزرگوں کے مطابق شیطانی رسم ہے اور عام لوگ اس رسم کا حصہ بن کر غیر مستحق کو صدقہ اور زکات ادا کرتے ہیں ۔
اس سلسلے میں ہمارئے روحانی استاد رضا بھائی نے اپنا تجربہ شئیر کیا ہے ۔یعنی رضا بھائی کے پاس ہر مہہنے ایک عورت آکر رو کر رضا بھائی سے مالی مدد کی گزارش کرتی ، اس عورت کے بازو اور چہرئے پر تشدد کے نشان بھی تھے ۔ رضا بھائی جذباتی ہو کر اپنی حیثت سے ذیادہ اس کی مدد کرتے۔ اس طرح کئی مہینے تک چلتا رہا اور ایک دن رضا بھائی کے دل میں خیال آیا کہ شائد ان کا یہ عمل صھیح نہیں ، لہذا رضا بھائی نے اپنے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر اس عورت کا شام تک پیچھا کیا۔ شام کو وہ عورت دوسرئے شہر میں پہنچی اور ایک دوکان کے اندر داخل ہوگئی ، اس دوکان پر بظاہر کولڈ ڈرنک بھیچے جاتے تھے لیکن حقیقت میں اس دوکان میں غیر قانونی شراب بھیچی جاتی تھی ۔ رضا بھائی کو ایسا لگا جیسا کہ اس عورت نے شراب خریدی ہو جبکہ تحقیق کرنے پر یہ بات سچ نکلی، جس کی وجہ سے رضا بھائی اور ان کے ساتھ موجود چند لوگ بے حد پریشان اور حیران ہوئے ۔
اس عورت کا مزید پیچھا کیا گیا تو وہ ایک گھر میں داخل ہوئی اور تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ گھر اس عورت کے شوہر کا جوا خانہ ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ اس عورت کے شوہر نے 4
عورتیں رکھیں ہیں جو کہ وہ کہیں سے خرید کر لایا تھا لیکن پولیس اور قانونی کاروائی سے بچنے کے لئے اس نے ان عورتوں سے نکاح کیا تھا ، یہ عورتیں صبح سے شام تک لوگوں کو بیوقوف بنا کر ان سے صدقہ اور زکات لیتی ، اس کے علاوہ یہ عورتیں چوری کے کام میں بھی اپنے شوہر کا ہاتھ بھٹاتی تھیں ۔
اس سارئے معاملے کی وجہ سے رضا بھائی کو کافی صدمہ لگا اور انہوں نے بغیر تصدیق کئے صدقہ اور زکات کسی کو دینا بند کردیا ۔ رضا بھائی ہمارئے روحانی استاد ہیں وہ آج بھی بہت سے مستحق لوگوں کی اس طریقے سے مدد کرتے ہیں کہ اپنے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہونے دیتے ۔
یاد رہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں سے غربت ہمیشہ کے لئے دور ہو جائے تو آپ کو صدقہ اور زکات کا پیسہ صرف مستحق کو پہچانا ہوگا اور یہ بھی یاد رکھیں کہ غیر مستحق کو صدقہ اور زکات دینے سے زندگی میں نحوست آتی ہے جبکہ نحوست ایک ایسا دروازہ ہے جو آپ کو ہر پریشانی کا سامنا کرنے پر مجبور کردے گی ۔
Sood Ki Raqam Lene Aur Dene Se Khud Ko Bachain
حصار نبوی کا تیسراحکم سود سے دور رہنے کے حوالے سے ہے ۔ اگر کوئی جانے یا انجانے میں سود کی رقم یا کسی چیز کا استعمال کرتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ حصار نبوی سے دور ہوجاتا ہے جبکہ حصار نبوی سے دوری کا مطلب آپ پر جنات ، شیاطین ، دشمن اور کالا جادو کا حملہ زندگی میں کبھی نہ کبھی ضرور ہوگا اور آپ اس سے آسانی سے نہیں بچ پائیں گے ۔ سود لینا اور سود دینا دونوں گناہ ہیں اور اس حوالے سے سخت حدیثیں موجود ہیں ۔
بعض لوگ بنک سے سود پر قرضہ لے کر گھر بناتے ہیں ، بعض کاروبار کرتے ہیں اور بعض محض عیاشی کے لئے سود پر پیسے حاصل کرتے ہیں ۔ سود کا مقصد جو بھی اس کی وجہ سے زندگی میں ایسی نحوست داخل ہو جاتی ہے جو بھیانک پریشانیوں کی وجہ بنتے ہیں ۔ بعض لوگ خود کو مطمعین کرنے کے لئے یہ سوچتے ہیں کہ وہ کاروبار کو کامیاب کرنے کے بعد سود کا لین دین چھوڑ دیں گے جبکہ بعض لوگوں کی یہ نیت ہوتی ہے کہ وہ صرف ایک بار سود پر پیسہ لیں گے اور اس کے بعد نہیں ۔ جبکہ شیطان بھی آپ سے یہی کہتا ہے کہ آپ صرف ایک بار سود پر لین دین کریں، لیکن جو شخص ایک بار سود پر لین دین کر لیتا ہے وہ اس دلدل میں دھنس جاتا ہے اور بعض اوقات وہ موت تک سود کی دلدل سے باہر نہیں نکل پاتا ۔
یا د رہے کہ سود کی رقم سے خریدی گئی ہر چیز آپ کے لئے دنیا و آخرت میں سخت مصیبت کی وجہ بن سکتی ہے ۔
روحانی حوالے سے کچھ بزرگوں کا یہ کہنا ہے کہ سود کی وجہ سے زندگی میں جو نحوست پیدا ہوتی ہے وہ جادو کے اثرات سے ذیادہ خطرناک ہے اور یہ آسانی سے نہیں جاتی جبکہ سود کی رقم کا ایک پیسہ آپ کو حصار نبوی سے دور کر سکتا ہے ۔
لہذا اگر آپ کالا جادو یا شیطانی اثرات کا شکار ہیں تو آپ کو سود سے دور رہنا ہی ہوگا ۔
حصار نبوی سے دور ہونے کی تیسری اہم وجہ والدین ، حاملہ خواتین ، شوہر ، یتیم اور بیوا عورتوں سے بدتمیزی کرنا ہے، یعنی اگر کوئی مسلمان بھائی یا بہن غصہ یا تکبر میں آکر والدین ، حاملہ خواتین ، شوہر ، یتیم اور بیوا عورتوں سے بدتمیزی کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے وہ اسی وقت حصار بنوی سے دور ہوجاتے ہیں جبکہ حصار نبوی سے دور ہونے کی وجہ سے کسی بھی فرد کے جسم پر شیطانی طاقتوں کا حملہ ہو سکتا ہے اور ان میں کالا جادو اہم ہے
شراب شیطان کا پسندیدہ مشروب ہے اور اگر کوئی مسلمان شراب کا استعمال کرتا ہے، یا شرابی لوگوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ حصار نبوی سے محروم ہو جائے گا جبکہ حصار نبوی سے محرومی آپ کو شیطان کے قریب کرئے گی ،
