زندگی میں ہر انسان کو ایسے لمحات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ دل ٹوٹ جاتا ہے، راستے بند نظر آتے ہیں اور آنکھوں میں بس اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے۔ کوئی اپنے پیار کو کھو دیتا ہے، کوئی اپنی صحت، کوئی اپنی عزت اور کوئی اپنا کاروبار۔ ایسے میں انسان سوچتا ہے کہ اب کون سنتا ہے، کون سنبھالتا ہے؟
لیکن جب تکلیف اپنی انتہا پر ہوتی ہے، اسی لمحے اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ہمارے سامنے آتا ہے — يَا ضَارُّ۔ یہ اللہ کا وہ نام ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو نقصان پہنچاتا ہے، وہ بھی وہی ہے اور جو فائدہ دیتا ہے، وہ بھی وہی ہے۔
“یا ضار” کا مطلب ہے “اے نقصان پہنچانے والے”، لیکن یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ کا نقصان پہنچانا بھی درحقیقت رحمت کا ایک پہلو ہوتا ہے۔ جب وہ کسی کو دکھ دیتا ہے، تو اس دکھ کے پیچھے ایک نرمی چھپی ہوتی ہے، ایک تربیت، ایک کرب، مگر اسی کرب سے انسان نکھر کر نکلتا ہے۔
یہ نام ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ تکلیف بھی ایک نعمت ہے اگر ہم اسے اللہ کی طرف سے سمجھ کر قبول کریں۔ مصیبت اللہ کی طرف لوٹنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، خود کو سنوارنے کا موقع، اور اپنی کمزوریوں کو پہچاننے کا آئینہ۔
آئیے اس صفاتی نام کو سمجھیں، اور جان لیں کہ جب اللہ کسی کو دکھ دیتا ہے، تو وہ اسے کھونے کے لیے نہیں، بلکہ اسے پانے کے لیے دیتا ہے۔

Ya Zaar in Arabic

Ya Zaar<br />

Tarjuma

یعنی اے اللہ! تو ہی ہے جو اپنی حکمت کے تحت کسی کو تکلیف پہنچاتا ہے، کسی کو بیماری دیتا ہے، کسی کا گھر اجاڑتا ہے، کسی کو تنگی میں ڈالتا ہے۔ تیرے سوا کوئی نہیں جو نقصان پہنچا سکے اور تیرے سوا کوئی نہیں جو نفع پہنچا سکے۔ ہر تکلیف تیری طرف سے ہے اور ہر راحت بھی تیری طرف سے۔

Hadith

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے مصیبت میں ڈالتا ہے، اور جو اس پر صبر کرے اس کے لیے اللہ کی رضا ہے۔”
(سنن ترمذی)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ تکلیف محبت کی علامت بھی ہو سکتی ہے، ناراضی کی نہیں۔ جس طرح سونے کو آگ میں ڈال کر کھرا کیا جاتا ہے، اسی طرح اللہ اپنے چنے ہوئے بندوں کو مصیبتوں میں ڈال کر ان کا ایمان نکھارتا ہے۔

Wazifa

وظیفہ کے لئے آپ جمعہ کے دن عشاء کی نماز کے بعد سب سے پہلے دونفل نماز اس طرح ادا کریں کہ ان دونوں نوافل میں آپ الحمد شریف کے بعد 3-3 مرتبہ سورہ اخلاص تلاوت کریں ۔ نوافل ادا کرنے کے بعد آپ 10 مرتبہ درود شریف پڑھیں ۔ اس کے بعد آپ ایک مرتبہ سورہ النبا اور 1000 مرتبہ اللہ کا صفاتی نام یا ضَارُّ ورد کریں ۔
آخر میں آپ دوبارہ 10 مرتبہ درود شریف پڑھ کر اس وظیفہ کو بند کردیں ۔ آپ نے بیان کیا گیا وظیفہ صرف عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے اور اس وظیفہ کو آپ نے 14 دن تک جاری رکھنا ہے انشاء اللہ 14 دن میں آپ کی پریشانیاں دور ہونے کے لئے غیبی اسباب پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے ۔
وظیفہ مکمل ہونے کے بعد آپ روزانہ 10 مرتبہ درود شریف اور 100 مرتبہ یا ضَارُّ ورد کرنے کی عادت بنائیں تاکہ آپ کو بیان کئے گئے وظیفہ کی روحانی برکات ہمیشہ حاصل ہوتی رہیں ۔
یاد رکھیں، یہ عمل ایک بار کا نہیں، جب تک تکلیف رہے اس پر ثابت قدم رہیں۔ اور جب تکلیف ختم ہو جائے تو اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو سنبھالا۔

Fawaid

یہ نام آپ کو سکھاتا ہے کہ ہر نقصان میں کوئی نہ کوئی فائدہ چھپا ہوتا ہے
اس کے ذریعے آپ مصیبت کو مصیبت نہیں، رحمت سمجھنا سیکھتے ہیں
آپ کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے اور آپ سنور جاتے ہیں
اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ذہن بنتا ہے
صبر کا وہ مقام ملتا ہے جو عام حالات میں نہیں ملتا
آپ دوسروں کے دکھ کو بہتر طور پر سمجھنے لگتے ہیں
یہ نام آپ کی توجہ دنیا سے ہٹا کر آخرت کی طرف کرتا ہے
آپ کو یقین ہوتا ہے کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہے
یہ آپ کو مغرور ہونے سے بچاتا ہے
آپ اپنی کمزوریوں کو پہچان کر خود کو بہتر بناتے ہیں
دعا قبولیت کا خاص وقت مصیبت ہی ہوتا ہے
آپ یہ سیکھتے ہیں کہ ہر تکلیف عارضی ہے اور اس کے بعد راحت ہے
یہ آپ کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے
آپ کو اپنے رب پر بھروسہ کرنا آ جاتا ہے
یہ آپ کو دوسروں کے لیے باعثِ رحمت بناتا ہے
آپ زندگی کے ہر موڑ پر اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں
یہ نام آپ کو دنیا کی بے ثباتی کا شعور دیتا ہے
آپ کا دل نرم ہو جاتا ہے اور آنسو جاری ہو جاتے ہیں
یہ آپ کو اللہ کا خاص بندہ بنا دیتا ہے
آخرت میں اس کا اجر بہت بڑا ہے

Note:

وظیفہ میں کامیابی کے لئے وظیفہ کی شرائط کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ، اگر آپ کے پاس وظیفہ کے لئے وقت نہیں ، یا آپ کو وظیفہ میں ناکامی کا سامنا ہو تو ایسی صؤرت میں آپ قرآنی فتح نامہ اپنے گھر میں سجا کر مطلوبہ روحانی برکات اور مقاصد حاصل کرسکتے ہیں ۔تفصیل کے لئے نیچے دئے گئے بٹن کو کلک کریں ۔